ایف بی آر کا ٹیکس نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات کی جانب اہم قدم
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
سٹی42: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سسٹم کو مزید ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کے لیے اہم پیشرفت کرتے ہوئے انکم ٹیکس رولز میں نئی ترمیم کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔
نئی تجاویز کے تحت ہر فرد کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اپنا انکم ٹیکس ریٹرن اور ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ صرف الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے فائل کرے۔
ایف بی آر نے عوام کو موقع دیا ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر ترمیمات یا تجاویز پیش کریں، جنہیں غور و فکر کے بعد حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت، درست ڈیٹا کی فراہمی، نگرانی اور ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنانا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کل سرکاری دورے پر برازیل روانہ ہوں گی
حتمی منظوری کے بعد تمام انفرادی فائلرز کے لیے آن لائن ریٹرن جمع کرانا لازمی ہوگا، تاکہ ٹیکس نظام میں جدیدیت اور مؤثر انتظام ممکن ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔