ایف بی آر کا مینول ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کیلئے خصوصی سہولیات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
ایف بی آر کا مینول ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کیلئے خصوصی سہولیات کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 5 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )فیڈرل بورڈ آف ریونیونے آن لائن ریٹرن فائلنگ کے فروغ کے لیے مینول انکم ٹیکس فائلرز کے لیے خصوصی سہولیات کا اعلان کردیا۔ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان بھر میں ٹیکس سسٹم کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے تحت مینول انکم ٹیکس فائلرز کے لیے خصوصی سہولیات کا اعلان کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق تمام ٹیکس دفاتر میں خصوصی سیل مینول ریٹرن فائل کر نے والے ٹیکس دہندگان کو تمام ضروری معاونت فراہم کریں گے۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مینول ٹیکس دہندگان رجسٹریشن اور آن لائن ریٹرن فائلنگ میں مکمل معاونت مفت حاصل کرنے کے لئے متعلقہ ٹیکس دفاتر سے رجوع کریں۔ کسی مینول ٹیکس دہندہ کو قانونی مدد کی ضرورت ہو تو ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر یہ سہولت بھی مفت فراہم کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق مینول ٹیکس فائلرز کیلیے ریٹرن فائٹنگ کی آخری تاریخ میں 30 نومبر 2025 تک توسیع کر دی گئی ہے۔ایف بی آر نے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی سہولت اور پاکستان میں مکمل طور پر ڈیجیٹلائزڈ، شفاف اور موثر ٹیکس سسٹم کو فروغ دینے کے لیے پر عزم ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسلح افواج کو سپورٹ کرنے کیلیے سرکاری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے، وزیر خزانہ مسلح افواج کو سپورٹ کرنے کیلیے سرکاری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے، وزیر خزانہ دہشتگردی کا خاتمہ: پاکستان اور افغان طالبان میں مذاکرات کل استنبول میں ہوں گے آئینی ترمیم پر مشاورت کیلئے سینیٹر فیصل واوڈا کی فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد آئینی ترمیم،حکومت کا 14نومبر کو منظوری کرانے کا فیصلہ,زیر اعظم کی مشاورت بنگلادیش کا پنجاب حکومت کے ماحولیاتی تجربات سے سیکھنے کی خواہش کا اظہار الیکشن کمیشن نے اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خصوصی سہولیات کا اعلان مینول ٹیکس ایف بی آر کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ