اسلام آباد:(نیوز ڈیسک)
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے آن لائن انکم ٹیکس ریٹرن اور ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ جمع کروانے کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے انکم ٹیکس رولز میں ترامیم کی جا رہی ہیں۔

ایف بی آر نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں مزید ترامیم کا مسودہ تیار کرکے اسٹیک ہولڈرز سے آراء کے لیے جاری کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ انکم ٹیکس رولز 2002 میں مزید ترامیم کا مسودہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 237 کی ذیلی شق ایک کے تحت حاصل اختیارات کے استعمال سے تیار کرکے جاری کیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے اس مجوزہ ترمیمی مسودے کو عوامی معلومات کے لیے جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جن افراد پر یہ ترامیم اثرانداز ہو سکتی ہیں وہ اس حوالے سے اپنی اعتراضات یا تجاویز سرکاری گزٹ میں اشاعت کے سات روز کے اندر اندر ایف بی آر کو ارسال کر سکتے ہیں، موصول ہونے والی آراء اور تجاویز کو حتمی فیصلے سے قبل زیرِ غور لایا جائے گا۔

مسودے کے مطابق انکم ٹیکس رولز کے رول 73 میں موجود ذیلی قاعدہ 2ڈی ڈی کو تبدیل کر کے ایک نیا قاعدہ شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن اور ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ کا الیکٹرانک فائلنگ (آن لائن جمع کروانا) لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق اس ترمیم کا مقصد ٹیکس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا، ریٹرن جمع کرانے کے عمل کو آسان بنانا اور ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کو موٴثر انداز میں منظم کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انکم ٹیکس رولز ٹیکس دہندگان ایف بی ا ر کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی