ٹیکس دہندگان کے اسٹیٹس سے متعلق ایف بی آر کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا اسٹیٹس 2024میں جمع کرائے گئےگوشواروں کی بنیاد پر متعین کیا جائے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر حکام کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ ٹیکس دہندگان کی ایک بڑی تعداد کوغیر فعال قرار دینے سے متعلق کچھ میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک گمراہ کن رپورٹ گردش کررہی ہے۔
ایف بی آر یہ واضح کرتا ہے کہ جن ٹیکس دہندگان نے مقررہ وقت کے اندر توسیع کی درخواست جمع کروائی ہے انہیں ایکٹیو ٹیکس دہندگان کی فہرست سے نہیں نکالا گیا سال 2025 کےلیے فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست ٹیکس سال 2024 میں کرائے گئے گوشواروں پر مبنی ہوگی اور اس میں 15 نومبر 2025 تک ٹیکس سال 2025 کے تمام نئے فائلرز بھی شامل کئے جائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جن ٹیکس دہندگان نے سسٹم کے ذریعے توسیع کی درخواست جمع کروائی ہے انہیں چیئرمین ایف بی آر کی ہدایات کے مطابق خودکار طور پر 15 دن کی توسیع دے دی گئی ہے،انکم ٹیکس قواعد میں حالیہ ترامیم کے بعدگوشواروں کو دستی طور پر جمع کرانے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔
تاہم گزشتہ سال جن افراد نے اپنے گوشوارے دستی طور پر جمع کرائے تھے انہیں ای فائلنگ کے لیے ایک ماہ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ریجنل ٹیکس آفسز کوہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے ٹیکس دہندگان کو مکمل معاونت فراہم کریں تاکہ ای-فائلنگ کے نظام میں با آسانی منتقلی ممکن ہو سکے، وہ ٹیکس دہندگان جو مقررہ تاریخ تک گوشوارے جمع نہیں کرا سکے ہیں وہ اب بھی 15 نومبر 2025 تک آن لائن سسٹم کے ذریعے متعلقہ کمشنر کو تاخیر کی معقول وجوہات بیان کرکے توسیع کی درخواست دے سکتے ہیں۔
ایف بی آر ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلۓ پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام مستند فائلرز اپنا فعال درجہ برقرار رکھیں ایف بی آر شفافیت اور ٹیکس کمپلائنس کو ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے فروغ دینے کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکس دہندگان کی ایف بی آر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔