امید ہے سہیل آفریدی میری پیشکش قبول کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں سے مل کر کام کرنے کی اپیل کردی۔
چترال میں دانش اسکول کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں امن و اتحاد کا ثبوت دینا چاہیے، سیاست کریں لیکن ملک کی ترقی اور دہشتگردی کے خاتمے کیلیے ایک رہیں، سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب ہونے پر فون پر مبارک باد دی، تعاون کی پیشکش کی، امید ہے وہ میری پیشکش کو قبول کریں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے معرکہ حق میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور افواج پاکستان کی بہادری کو سراہا، جنگ بندی میں اہم کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ چترال کےخوبصورت علاقے میں حاضر ہوا ہوں، خیبر پختونخوا کے عوام بہادر اور غیور ہیں، انہوں نے پاکستان کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، چترال والوں کی حب الوطنی مثالی ہے، آپ نے پاکستان کی ترقی کیلئے عظیم کاوشیں کی ہیں، چترال کے عوام بہت مہذب اور پُرامن لوگ ہیں، چترال آکر بہت خوشی ہوئی۔
وزیراعظم نے اپنی نشست خالی کرکے بلوچستان کی طالبہ کو بٹھادیاوزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم میں لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات نے ملک کا نام روشن کرنے کاعزم ظاہر کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف پورے ملک کی ترقی میں ہمیشہ مصروف رہتے تھے، نواز شریف کی کے پی کے ترقیاتی منصوبوں میں بہت دلچسپی ہوتی تھی، چترال کے عوام کیلئے خاص تحفہ لے کر آیا ہوں، دانش اسکول منصوبہ آپ کا حق ہے، یہ احسان نہیں، عام آدمی کے بچے اس دانش اسکول میں جائیں گے، تعلیمی معیار بہترین ہوگا، دانش اسکول میں تعلیم بالکل مفت ہوگی، وفاق آپ کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو عظیم بنائیں گے، پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ نے بے پناہ معدنیات سے نوازا ہے، نوجوان بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر اثاثہ بنوائیں گے، چترال کے بچوں اور بچیوں کو بھی لیپ ٹاپس دیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چترال میں اسپتال بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ اسلام آباد جاتے ہی چترال میں گیس پلانٹ کے آرڈر جاری کروں گا، چترا ل میں فی الفور گیس پلانٹ لگایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے دانش اسکول نے کہا کہ چترال کے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم