متنازع ٹوئٹ کیس، ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش،وارنٹ منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : متنازع ٹوئٹ کیس میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے وکیل و سماجی کارکن ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے کیس کی سماعت ہفتہ، 8 نومبر تک ملتوی کر دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دونوں عدالت میں پیش ہوئے۔ ہادی علی چٹھہ کی جانب سے وکیل سمیع اللہ وزیر نے وکالت نامہ جمع کرایا، جبکہ ایمان مزاری نے عدالت سے اپنا وکیل مقرر کرنے کے لیے مہلت طلب کی۔
جج افضل مجوکا نے ہدایت دی کہ ایمان مزاری ہفتہ تک اپنے وکیل کی پاور آف اٹارنی جمع کرائیں۔ اس موقع پر ایمان مزاری نے مؤقف اپنایا کہ مقدمے کو غیر معمولی تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے جس سے اُن کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ ایمان مزاری نے کہا کہ ، “ہمیں سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔”
عدالت نے جواباً ریمارکس دیے کہ فردِ جرم پہلے ہی 3 مرتبہ وکلا کی موجودگی میں پڑھی جا چکی ہے۔
سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ نے استدعا کی کہ چونکہ اُن کے وکیل عدالت میں موجود ہیں، اس لیے اسٹیٹ کونسل کی تقرری ختم کی جائے۔ جج افضل مجوکا نے واضح کیا کہ عدالت نے خود اسٹیٹ کونسل مقرر نہیں کی تھی، بلکہ اسے متعلقہ کمیٹی نے تعینات کیا ہے اور اسی کمیٹی کے پاس ہی اس کی منسوخی کا اختیار ہے۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ اسٹیٹ کونسل سے متعلق دلائل آئندہ سماعت پر سن کر حکم جاری کیا جائے گا۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے کیس کو 8 نومبر تک ملتوی کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہادی علی چٹھہ ایمان مزاری عدالت نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔