data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251106-08-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے کیس کی سماعت کی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، عدالتی وقت ختم ہونے تک ملزمان عدالت سے غیر حاضر رہے۔ جس پر عدالت نے دونوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، جس میں کہا گیا کہ عدالت پیش نہ ہونے پر کیوں نہ ملزمان کی ضمانت خارج کر دی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے کنڈکٹ سے ظاہر ہے کہ وہ جان بوجھ کر عدالت پیش نہیں ہو رہے جبکہ استغاثہ کے 3 گواہان عدالت میں موجود رہے ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آبادنے کہا کہ ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی۔ اس سے قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی تھی، دونوں ملزمان کورٹ میں موجود نہیں تھے۔ بعد ازاں، 30 اکتوبر کو اسلام آباد کی عدالت نے ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، جس کے بعد عدالت سے نکلتے ہی انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ این سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمے داری سیکورٹی فورسز پر ڈالی۔ یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام ا باد عدالت نے چٹھہ کے

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور