متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور انکے شوہرکے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251106-08-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے کیس کی سماعت کی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، عدالتی وقت ختم ہونے تک ملزمان عدالت سے غیر حاضر رہے۔ جس پر عدالت نے دونوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، جس میں کہا گیا کہ عدالت پیش نہ ہونے پر کیوں نہ ملزمان کی ضمانت خارج کر دی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے کنڈکٹ سے ظاہر ہے کہ وہ جان بوجھ کر عدالت پیش نہیں ہو رہے جبکہ استغاثہ کے 3 گواہان عدالت میں موجود رہے ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آبادنے کہا کہ ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی۔ اس سے قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی تھی، دونوں ملزمان کورٹ میں موجود نہیں تھے۔ بعد ازاں، 30 اکتوبر کو اسلام آباد کی عدالت نے ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، جس کے بعد عدالت سے نکلتے ہی انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ این سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمے داری سیکورٹی فورسز پر ڈالی۔ یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام ا باد عدالت نے چٹھہ کے
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔