متنازع ٹوئیٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قلابازیاں جاری ہیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
وکیل ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے متنازع ٹوئیٹس کیس میں ملزمان کی قلابازیاں ٹوئیٹر اور عدالت دونوں میں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق میڈم مزاری کا روایتی گیم پلان جاری ہے لیکن لگتا ہے اس بار ٹکر کا جج جڑا ہے جو ان کے عدالت کے باہر بولے گئے جھوٹے بیانیے، رونے دھونے اور الزامات سے بےنیاز قانونی کارروائی کو آگے بڑھاتا جا رہا ہے۔
میڈم مزاری نے کم عرصے میں بڑا نام بنایا ہے جس کے پیچھے ایک گیم پلان ہمیشہ عمل میں رہا ہے۔
میڈم کی وکالت کا ایک رائج طریقہ کار ہے۔ چونکہ جج صرف اپنے آرڈر کے ذریعے بول سکتے ہیں اس لیے میڈم مزاری عدالت سے باہر سوشل میڈیا پر اپنی عدالت لگاتی ہیں جس میں سچ، قانون اور حقائق کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہاں حقائق کو تروڑ مروڑ کر جج، عدالت اور مخالفین کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں۔ مظلومیت کا ایک نہ ختم ہونے والا ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے جس سے عدالت کی کارروائی کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ٹویٹ کیس میں جب FIR سامنے آئی تو میڈم مزاری ریکارڈ پہ ہیں کہ یہ کیا چارجز ہوئے مجھے تو ہنسی آ رہی ہے کہ یہ مقدمہ چلائیں گے کیسے؟
جب مقدمہ شروع ہوا تو دنیا نے عدالت میں دیکھا کہ میڈم مزاری اور ان کے شوہر نامدار کو اسی عدالت نے ضمانت کی سہولت دی۔ تب جج مجوکہ اچھے جج تھے۔ یاد رہے کہ آج جو ’یوٹیوبر بریگیڈ‘ میڈم کے عشق میں جج مجوکہ کے خلاف نعرے لگا رہا ہے، وہ انہی کے کچھ کورٹ آرڈرز کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا تھا۔
خیر عدالتی کارروائی شروع ہوتے ہی دونوں میاں بیوی عدالت کے سامنے گگھو بن کے کھڑے ہو گئے کہ ہمارا وکیل تو ابھی امریکا میں ہے، آئے گا تو عدالتی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔ عدالت نے ان سے پوچھ کے ان کی مرضی کی تاریخ دے دی۔
جب میڈم کے وکیل قیصر امام آئے اور چارج پڑھ کر سنایا گیا تو ہادی چٹھہ نے بہانہ کیا کہ ان کا کوئی وکیل نہیں۔ اس پر عدالت نے ان سے پوچھ کر آئینی ضابطے کے تابع سرکاری وکیل مقرر کیا۔ اس کےبعد 30 اکتوبر کو دوبارہ چارج پڑھ کے سنایا گیا اور ملزمان کو تیاری کے لیے درکار وقت دیا گیا۔
آج تک یہ دونوں ملزمان عدالتی نرمی کا غلط فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ کبھی ایک آ جاتا ہے کبھی دوسرا تاکہ نہ دونوں ایک وقت عدالت میں ہوں نہ ہی عدالتی کارروائی کا آغاز ہو سکے۔
جب تک جج مجوکہ ان کے چوہے بلی کے کھیل کو برداشت کرتے رہے وہ اچھے جج تھے۔ جب انہوں نے یاد کرایا کہ بھائی! آپ دونوں ٹورسٹ نہیں، ملزمان ہیں اور جیسے باقی ملزمان ہیں ویسے ہی آپ کی حیثیت ہے۔ قانون کے سامنے تو میڈم اپنے روایتی ہتھکنڈوں کے ساتھ میدان میں آ گئیں کہ چارج تو ابھی ہوا نہیں، میرے میاں کی ضمانت کیوں کینسل کی؟ یہ غیر آئینی ہے، یہ سب فوج کروا رہی ہے۔
جج مجوکہ کے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی گئی اور وہی مظلومیت کا ڈھول چیخ چیخ کر پیٹا گیا۔ خود عدالت سے وقت مانگتی ہیں کبھی اس بہانے سےکہ وکیل کرنا ہے، کبھی اس بہانے سے کہ میرا کیس ہے۔ جب عدالت وقت دیتی ہے تو کہتی ہیں کہ عدالت بار بار بلاتی کیوں ہے؟ مزاری کے دانت عدالت میں اور یو ٹیوب پہ اور !
جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے۔ میڈم نے اپنے غصے میں اپنے ہی وکیل قیصر امام کو بھی رگڑ دیا۔ وہ عزت دار انسان ہیں چنانچہ انہوں نے میڈم کی وکالت کرنے سے ہی معذرت کر لی۔ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بھری عدالت میں قیصر امام جیسا سینئر وکیل ان دونوں ملزمان کے لقموں سے تنگ آ کر بول پڑا کہ وکالت مجھے کرنے دیں یا پھر آپ اپنی وکالت خود کر لیں۔ خیر یہ زعم تو میڈم مزاری کا پرانا ہے کہ ان سے زیادہ قانون کسی کو نہیں آتا اور ایک وہی حق پر ہیں باقی سب غلط۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جس طرح میڈم مزاری قانون اور عدالت کا کھلواڑ کر رہی ہیں کیا کوئی اور ملزم کر سکتا ہے؟
کیس ہے کیا؟ میڈم کی اپنی ٹویٹس ہیں جو خلاف قانون ہیں۔ پہلے کہہ رہی تھیں کہ اس کیس میں ہے ہی کچھ نہیں اور اب اتنا ڈر کہ ہر حیلے بہانے سے عدالتی کارروائی سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہیں یا اس میں رخنہ ڈال رہی ہیں۔ اس کی خاطر بے شرمی سے جھوٹ پہ جھوٹ بول رہی ہیں۔ اگر ہے ہی کچھ نہیں تو غم کاہے کا؟
میڈم مزاری کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ پاکستانی عدالتیں تاخیری کاروائی کے لیے بدنام ہیں۔ بروقت فیصلے نہیں آتے۔ آج اپنے پہ آئی ہے تو کہتی ہیں 3-4 سال تو لگ جاتے ہیں فیصلوں میں عمومی طور پہ، تو جلدی کیوں ہو رہی ہے۔ جلدی کیسی میڈم! 2 مہینے سے آپ دائیں بائیں بھاگ رہی ہیں۔ عدالت کے باہر جا کے روزانہ عدالت لگا رہی ہیں کہ کسی طرح یہ جج بھی ڈر جائے۔ اصل میں منہ کو خون لگ گیا ہے۔ شاید انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد پہ الزام لگا کر یہ سمجھا کہ کسی بھی جج کو ڈرانے سے عدالتی کاروائی روکی جا سکتی ہے۔
بات سادہ سی ہے، اپنے ہی الفاظ ہیں ٹوئٹر پر اور ان کا دفاع کرنا ہے تو اس میں کیا پرابلم ہے؟ ابھی تک کی حرکتوں سے تو لگتا ہے قانونی دفاع ہے نہیں تو بیانیہ بنا کے عدالت کو ہی گندہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک امیر زادی کو شاید یہ بات ناگوار گزری ہے کہ اس سے بھی سوال ہو سکتا ہے صرف یہی ہر ایک سے بدتمیزی سے سوال نہیں کر سکتیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عدالتی کارروائی میڈم مزاری عدالت میں جج مجوکہ رہی ہیں ہیں کہ
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی