وکیل ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے متنازع ٹوئیٹس کیس میں ملزمان کی قلابازیاں ٹوئیٹر اور عدالت دونوں میں جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق میڈم مزاری کا روایتی گیم پلان جاری ہے لیکن لگتا ہے اس بار ٹکر کا جج جڑا ہے جو ان کے عدالت کے باہر بولے گئے جھوٹے بیانیے، رونے دھونے اور الزامات سے بےنیاز قانونی کارروائی کو آگے بڑھاتا جا رہا ہے۔

میڈم مزاری نے کم عرصے میں بڑا نام بنایا ہے جس کے پیچھے ایک گیم پلان ہمیشہ عمل میں رہا ہے۔

میڈم کی وکالت کا ایک رائج طریقہ کار ہے۔ چونکہ جج صرف اپنے آرڈر کے ذریعے بول سکتے ہیں اس لیے میڈم مزاری عدالت سے باہر سوشل میڈیا پر اپنی عدالت لگاتی ہیں جس میں سچ، قانون اور حقائق کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہاں حقائق کو تروڑ مروڑ کر جج، عدالت اور مخالفین کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں۔ مظلومیت کا ایک نہ ختم ہونے والا ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے جس سے عدالت کی کارروائی کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ٹویٹ کیس میں جب FIR سامنے آئی تو میڈم مزاری ریکارڈ پہ ہیں کہ یہ کیا چارجز ہوئے مجھے تو ہنسی آ رہی ہے کہ یہ مقدمہ چلائیں گے کیسے؟

جب مقدمہ شروع ہوا تو دنیا نے عدالت میں دیکھا کہ میڈم مزاری اور ان کے شوہر نامدار کو اسی عدالت نے ضمانت کی سہولت دی۔ تب جج مجوکہ اچھے جج تھے۔ یاد رہے کہ آج جو ’یوٹیوبر بریگیڈ‘ میڈم کے عشق میں جج مجوکہ کے خلاف نعرے لگا رہا ہے، وہ انہی کے کچھ کورٹ آرڈرز کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا تھا۔

خیر عدالتی کارروائی شروع ہوتے ہی دونوں میاں بیوی عدالت کے سامنے گگھو بن کے کھڑے ہو گئے کہ ہمارا وکیل تو ابھی امریکا میں ہے، آئے گا تو عدالتی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔ عدالت نے ان سے پوچھ کے ان کی مرضی کی تاریخ دے دی۔

جب میڈم کے وکیل قیصر امام  آئے اور چارج پڑھ کر سنایا گیا  تو ہادی چٹھہ نے بہانہ کیا کہ ان کا کوئی وکیل نہیں۔ اس پر عدالت نے ان سے پوچھ کر آئینی ضابطے کے تابع سرکاری وکیل مقرر کیا۔ اس کےبعد 30 اکتوبر کو دوبارہ چارج پڑھ کے سنایا گیا اور ملزمان کو تیاری کے لیے درکار وقت دیا گیا۔

آج تک یہ دونوں ملزمان عدالتی نرمی کا غلط فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ کبھی ایک آ جاتا ہے کبھی دوسرا تاکہ نہ دونوں ایک وقت عدالت میں ہوں نہ ہی عدالتی کارروائی کا آغاز ہو سکے۔

جب تک جج مجوکہ ان کے چوہے بلی کے کھیل کو برداشت کرتے رہے وہ اچھے جج تھے۔ جب انہوں نے یاد کرایا کہ بھائی! آپ دونوں ٹورسٹ نہیں، ملزمان ہیں اور جیسے باقی ملزمان ہیں ویسے ہی آپ کی حیثیت ہے۔ قانون کے سامنے تو میڈم اپنے روایتی ہتھکنڈوں کے ساتھ میدان میں آ گئیں کہ چارج تو ابھی ہوا نہیں، میرے میاں کی ضمانت کیوں کینسل کی؟ یہ غیر آئینی ہے، یہ سب فوج کروا رہی ہے۔

جج مجوکہ کے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی گئی اور وہی مظلومیت کا ڈھول چیخ چیخ کر پیٹا گیا۔ خود عدالت سے وقت مانگتی ہیں کبھی اس بہانے  سےکہ وکیل کرنا ہے، کبھی اس بہانے سے کہ میرا کیس ہے۔ جب عدالت وقت دیتی ہے تو کہتی ہیں کہ عدالت بار بار بلاتی کیوں ہے؟ مزاری کے دانت عدالت میں اور یو ٹیوب پہ اور !

جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے۔ میڈم نے اپنے غصے میں اپنے ہی وکیل قیصر امام کو بھی رگڑ دیا۔ وہ عزت دار انسان ہیں چنانچہ انہوں نے میڈم کی وکالت کرنے سے ہی معذرت کر لی۔ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بھری عدالت میں قیصر امام جیسا سینئر وکیل ان دونوں ملزمان کے لقموں سے تنگ آ کر بول پڑا کہ وکالت مجھے کرنے دیں یا پھر آپ اپنی وکالت خود کر لیں۔ خیر یہ زعم تو میڈم مزاری کا پرانا ہے کہ ان سے زیادہ قانون کسی کو نہیں آتا اور ایک وہی حق پر ہیں باقی سب غلط۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ جس طرح میڈم مزاری قانون اور عدالت کا کھلواڑ کر رہی ہیں کیا کوئی اور ملزم کر سکتا ہے؟

کیس ہے کیا؟ میڈم کی اپنی ٹویٹس ہیں جو خلاف قانون ہیں۔ پہلے کہہ رہی تھیں کہ اس کیس میں ہے ہی کچھ نہیں اور اب اتنا ڈر کہ ہر حیلے بہانے سے عدالتی کارروائی سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہیں یا اس میں رخنہ ڈال رہی ہیں۔ اس کی خاطر بے شرمی سے جھوٹ پہ جھوٹ بول رہی ہیں۔ اگر ہے ہی کچھ نہیں تو غم کاہے کا؟

میڈم مزاری کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ پاکستانی عدالتیں تاخیری کاروائی کے لیے بدنام ہیں۔ بروقت فیصلے نہیں آتے۔ آج اپنے پہ آئی ہے تو کہتی ہیں 3-4 سال تو لگ جاتے ہیں فیصلوں میں عمومی طور پہ، تو جلدی کیوں ہو رہی ہے۔ جلدی کیسی میڈم! 2 مہینے سے آپ دائیں بائیں بھاگ رہی ہیں۔ عدالت کے باہر جا کے روزانہ عدالت لگا رہی ہیں کہ کسی طرح یہ جج بھی ڈر جائے۔ اصل میں منہ کو خون لگ گیا ہے۔ شاید انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد پہ الزام لگا کر یہ سمجھا کہ کسی بھی جج کو ڈرانے سے عدالتی کاروائی روکی جا سکتی ہے۔

بات سادہ سی ہے، اپنے ہی الفاظ ہیں ٹوئٹر پر اور ان کا دفاع کرنا ہے تو اس میں کیا پرابلم ہے؟ ابھی تک کی حرکتوں سے تو لگتا ہے قانونی دفاع ہے نہیں تو بیانیہ بنا کے عدالت کو ہی گندہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک امیر زادی کو شاید یہ بات ناگوار گزری ہے کہ اس سے بھی سوال ہو سکتا ہے صرف یہی ہر ایک سے بدتمیزی سے سوال نہیں کر سکتیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عدالتی کارروائی میڈم مزاری عدالت میں جج مجوکہ رہی ہیں ہیں کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم