عمران خان کے وکیل شعیب شاہین پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار،کیمو تھراپی جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور معروف وکیل ایڈووکیٹ شعیب شاہین کے صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے اہم رکن شعیب شاہین کافی عرصے سے منظر عام سے غائب ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین بھی ان کی خیریت کے بارے میں سوالات کرتے رہتے ہیں۔
وکیل شمسہ جبین کیانی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر تصدیق کی ہے کہ شعیب شاہین پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہیں اور کیمو تھراپی کروا رہے ہیں۔ انہوں نے صارفین سے شعیب شاہین کی صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی ہے۔
شعیب شاہین ایڈووکیٹ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ کیمو تھراپی کروا رہے ہیں۔ ان کی صحت کیلئے سب سے دعا کی اپیل ہے۔ ایڈووکیٹ شمسہ جبین کیانی pic.
— Shamsa Kayani PTI (Advocate) (@ShamsaKayaniPTI) November 5, 2025
شعیب شاہین کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ انہوں نے 1991 میں وکالت کا آغاز کیا اور 2014 میں پہلی بار عمران خان کے وکیل کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دھرنا کیس میں چیئرمین عمران خان کی قانونی نمائندگی کی۔
شعیب شاہین نے اپنے کیریئر میں متعدد اہم قانونی عہدے بھی سنبھالے۔ وہ 2003 سے 2005 تک پاکستان سروسز بار ایسوسی ایشن کے صدر، 2015 میں اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین، 2016 سے 2020 تک پاکستان بار کونسل کے منتخب رکن، اور 2022 سے 2023 تک اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔
شعیب شاہین کے ساتھیوں اور قانونی حلقوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی شعیب شاہین عمران خان کینسر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی شعیب شاہین کینسر شعیب شاہین
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔