متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہو گئے، سمیع اللہ وزیر نے ہادی علی چٹھہ کی جانب سے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا۔ایمان مزاری نے استدعاکی کہ انہیں وکیل کرنے کیلئے وقت دیا جائے.
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے کیس کی سماعت کی تھی.ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے. عدالتی وقت ختم ہونے تک ملزمان عدالت سے غیر حاضر رہے تھے۔جس پر عدالت نے دونوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت پیش نہ ہونے پر کیوں نہ ملزمان کی ضمانت خارج کر دی جائے۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر عائد کی تھی۔یہ مقدمہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہادی علی چٹھہ کے جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور وارنٹ گرفتاری اسٹیٹ کونسل ان کے شوہر عدالت نے کر دیے
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔