گھی و تیل کی صنعت شدید مالی دباؤ میں، ح شیخ عمر ریحان
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-06-18
کراچی ( کامرس رپورٹر) پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے کہا ہے کہ گھی اور خوردنی تیل کی صنعت سخت مالی مشکلات، بھاری ٹیکسوں جس میں سیلز ٹیکس سیکشن 8B، سیکشن 40Bاور ریگولیٹری مسائل کے باعث مشکلات سے دوچار ہے اور حکومت فوری طور پر سیلز ٹیکس کے ریفنڈز ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی وی ایم اے کے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پی وی ایم اے کے عہدیداران اور سینئر ممبران شریک ہوئے۔جبکہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے خصوصی شرکت کی۔ چیئرمین پی وی ایم اے شیخ عمر ریحان نے کہا کہ صنعت 90 فیصد خام مال بیرون ملک سے درآمد کرتی ہیٹیکسز اور ڈیوٹیز کے اضافی بوجھ سے کمپنیوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ ہم پہلے ہی 45 فیصد سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جن میں 35 فیصد درآمدی ڈیوٹی اور 10 فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے۔ یہ بوجھ بہت زیادہ ہے اور صرف رجسٹرڈ کمپنیوں پر پڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ سیلز ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر کی وجہ سے کمپنیوں کے پاس کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے سرمایہ کم پڑ رہا ہے، مزید برآں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن میں پھنسی رقم نے مسائل میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ چیئرمین پی وی ایم اے نے کہاکہ ریفنڈ نہ ملنے سے فیکٹریاں مالی دبائو میں ہیں۔ حکومت فوری طور پر بقایا ریفنڈ جاری کرے تاکہ صنعت چلتی رہے۔شیخ عمر ریحان نے کہا کہ اگر حکومت نے مدد نہ کی تو پیداوار متاثر ہوگی اور عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی مشکل ہو جائے گی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریگولیٹری مسائل میں نرمی کی جائے تاکہ انڈسٹری کی سرگرمیاں چلتی رہیں۔ پی وی ایم اے جنرل باڈی اجلاس میں ممبران نے متفقہ طور فیصلہ کیا کہ مشترکہ کمیٹی بنا کر مسائل حکومت کو پیش کیے جائیں گے تاکہ ان کا بروقت حل نکالا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی وی ایم اے
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔