پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ، مستقل ملازمت کا قانون منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : پنجاب حکومت نے نئے آرڈیننس کے تحت سرکاری ملازمین کی بھرتی کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے، اب انہیں بنیادی تنخواہ کے اسکیل کے بجائے یکمشت پیکیج پر بھرتی کیا جائے گا، جس کے باعث یہ ملازمین پنشن کے اہل نہیں ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس (ری پیل) آرڈیننس 2025، 31 اکتوبر کو نافذ کیا گیا ہے، تاکہ پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کو منسوخ کیا جا سکے، اور یہ آرڈیننس پیر کے روز پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔
پاکستان سپورٹس بورڈ نے ویٹ لفٹنگ کے کھلاڑیوں و عہدیداروں پر پابندیاں لگادیں
اس آرڈیننس کے پیچھے وجہ یہ بتائی گئی کہ صوبائی حکومت بنیادی تنخواہ کے اسکیل سے یکمشت تنخواہ کے نظام کی طرف جانا چاہتی ہے تاکہ پنشن کی صورت میں سرکاری خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
2018 کے قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی، نیا آرڈیننس فوری طور پر کنٹریکٹ ملازمین کی 4 سالہ ملازمت کے بعد مستقل ہونے کے عمل کو روک دیتا ہے۔
تاہم آرڈیننس نے منسوخ شدہ قانون کے تحت کیے گئے تمام فیصلوں اور اقدامات کو تحفظ فراہم کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ “منسوخ شدہ قانون کے تحت کیا گیا کوئی بھی عمل یا اقدام ایسے ہی مؤثر رہے گا جیسے کہ وہ قانون منسوخ نہ ہوا ہو۔
لاہور: سیف سٹی اتھارٹی کا پولیس ڈرونز پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز
نیا آرڈیننس
پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کے تحت وہ تمام افراد جو اس قانون کے نفاذ سے قبل کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے، ان کی تعیناتی کو قانونی تصور کیا گیا تھا اور اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا تھا۔
منسوخ شدہ قانون کے مطابق، کوئی بھی کنٹریکٹ ملازم جو 4 سال تک مسلسل خدمات انجام دے رہا ہو، اسے مستقل تقرری کے لیے اہل سمجھا جاتا تھا، بشرطیکہ اس کے لیے باقاعدہ اسامی موجود ہو، ملازم متعلقہ قابلیت رکھتا ہو، اور اس کی کارکردگی تسلی بخش ہو۔
لاہور: 4 افراد کی ہلاکت، ٹرک ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج
اس منسوخ شدہ قانون میں کنٹریکٹ ملازمین کی مستقل تعیناتی کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی گئی تھی، اس کے مطابق، کنٹریکٹ ملازم کو ایک مخصوص کمیشن کی سفارش پر تعینات کرنے والی اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔
قانون میں بھرتی، معاہدے کی منسوخی، سنیارٹی کا تعین، تنخواہ کا تعین، ریگولرائزیشن کے اختیارات، قانونی فریم ورک، اپیل یا نظرثانی، قواعد، مشکلات کے ازالے اور تحفظات کے حوالے سے مکمل ضوابط درج تھے۔
سپریم کورٹ؛ خانپور ڈیم آلودہ پانی فراہمی کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو نوٹس جاری
نئے مجوزہ قانون کے تحت، جسے پنجاب اسمبلی سے منظور کیا جانا ہے، محکمانہ بھرتیاں اب بنیادی تنخواہ کے اسکیل کے بجائے یکمشت تنخواہ پیکیج پر ہوں گی۔
فیصلے کے مطابق، کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین پوری سروس کنٹریکٹ پر ہی رہیں گے۔
سرکاری حکام کے مطابق، کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین پنشن کے اہل نہیں ہوں گے، کیوں کہ یہ اقدام صوبائی خزانے پر پنشن کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پنجاب کے 3 حلقوں میں ضمنی انتخابات کی نئی تاریخ مقرر
آرڈیننس کے نفاذ کے بعد، پہلے سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے کچھ ابہام بھی پیدا ہو گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیا آرڈیننس ان پر اثر انداز نہیں ہوتا، جب کہ دیگر کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام موجودہ ملازمین کی مستقل ہونے کی اہلیت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
سیکریٹری قانون آصف بلال لودھی سے متعدد بار رابطے کی کوشش کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا، جب کہ سیکریٹری ریگولیشنز میاں ابرار احمد نے تصدیق کی کہ قانون منسوخ کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے نئے آرڈیننس کے اثرات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
ایک سینئر سول سرونٹ نے کہا کہ حکومت کو یا تو مستقل ملازمت کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں یا مارکیٹ کے مطابق مسابقتی تنخواہیں دینی چاہئیں، کیوں کہ اس طرح کے اقدامات سے انسانی وسائل کے معیار میں بہتری آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔