پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز کے مالک علی ترین کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے شائقین کرکٹ کی توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں انہوں نے ایک خاتون وکیل کی فائرنگ کرتی ویڈیو پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی سی بی مجھ پر پابندی لگانے کی کوشش کی تو میں جانتا ہوں کہ مجھے کس کی خدمات حاصل کرنی ہیں۔

If PCB tries to ban me, I know who I’m hiring ???? https://t.

co/ZAGoi6DuJz

— Ali Khan Tareen (@aliktareen) November 3, 2025

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور ملتان سلطانز کے درمیان فرنچائز اونرشپ کے معاملے پر کشیدگی جاری ہے۔ اس پر سوشل میڈیا صارفین بھی مختلف تبصرے کرتے نظر آئے۔

ایک صارف نے علی ترین کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگلا قانونی نوٹس یعنی آپ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر دھمکی دی ہے۔

Next legal notice. YoU threat the PCB ON TWITTER https://t.co/ePTI5UN5rM

— Shilajit Energy Drinks (@shilajitenergyd) November 3, 2025

شیخ آفتاب نے کہا کہ اگر آپ اس خاتون اپنا وکیل رکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کو بین کرنا بالکل درست فیصلہ ہوگا۔

If you want to hire her as your counsel, it'd make sense to ban you in the first place. ????‍????

— Sheikh Aftab (@sheikh_aftab) November 3, 2025

رانا یعقوب نے سوال کیا کہ یہ پی سی بی کو آپ کی آخری وارننگ ہے؟

@aliktareen last warning to PCB? ????

— Rana Yaqub Ishaq (@rana_Yaqub5) November 3, 2025

ذرائع کے مطابق، دسمبر 2025 میں پی ایس ایل ٹیموں کے فرنچائز اونرشپ رائٹس کی 10 سالہ مدت ختم ہو رہی ہے۔ موجودہ فرنچائز مالکان اپنی ٹیموں کے لیے دوبارہ بولی لگا سکتے ہیں، تاہم ملتان سلطانز کے مطابق پی سی بی کی جانب سے بھجوائے گئے قانونی نوٹس میں علی ترین کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

علی ترین نے اس نوٹس کو پھاڑ کر ردعمل دیا اور کہا کہ اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں سے ہم خاموش ہو جائیں گے، تو یہ ان کی بڑی غلط فہمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی بمقابلہ علی ترین، سوشل میڈیا پر لوگ کس کا ساتھ دے رہے ہیں؟

بعد ازاں، انہوں نے ایک اور سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ وہ پی ایس ایل کو قومی اثاثہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ماضی کے شکوے دور کر کے پی سی بی کے ساتھ ایک نیا تعلق قائم کیا جائے جو شفافیت، تعاون اور اعتماد پر مبنی ہو۔

علی ترین نے پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو ایک خط میں چار اصلاحاتی تجاویز بھی پیش کیں۔ پہلی تجویز تھی کہ پی ایس ایل کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس میں فرنچائزز کی نمائندگی۔ دوسری تجویز پی ایس ایل کے عہدوں کے لیے بھرتیوں کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی۔ تہسرے نمبر پر پیشہ ورانہ مینجمنٹ اسٹرکچر کا قیام۔ چوتھی اور آخری تجویز فرنچائزز کو باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام تھی۔

یہ بھی پڑھیں: علی ترین کی پی ایس ایل پر کڑی تنقید، ’اب جشن نہیں، جوابدہی کی ضرورت ہے‘

ملتان سلطانز کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ پی ایس ایل کو مضبوط اور شفاف بنیادوں پر استوار دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ یہ لیگ پاکستان کی کرکٹ کے لیے ایک مستحکم ماڈل بن سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی سی بی علی ترین محسن نقوی ملتان سلطانز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی سی بی علی ترین محسن نقوی ملتان سلطانز ملتان سلطانز کے سوشل میڈیا پی ایس ایل علی ترین پی سی بی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟