وفاقی وزیر پلاننگ و ڈیولپمنٹ احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک فیز ٹو کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، چین کو ہم نے دو اسپشل اکامک زونز آفر کیے ہیں، اس پر اب ان کی ٹیکنیکل ٹیم پاکستان آ کر جائزہ لے گی۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چین نے کبھی ہم پر یہ شرط نہیں لگائی کہ ہم سے تعلقات رکھنے کے لیے کسی دوسرے کی طرف نہ جائیں، بلکہ وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ آپ تمام ممالک سے تعلقات بہتر بنا کر اپنی اقتصادی حالت کو بہتر بنائیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی معاشی ترقی میں سی پیک کا اہم کردار ہے، چینی قونصل جنرل

انہوں نے کہاکہ سی پیک فیز ون میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آئی، لیکن پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس منصوبے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہاکہ سی پیک فیز ٹو میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نہیں ہوگی، بلکہ دیگر منصوبے لگیں گے، جن میں پاکستانی نوجوانوں کی آئی ٹی سیکٹر میں تربیت بھی شامل ہے۔

احسن اقبال نے کہاکہ بیرونی سرمایہ کاری کا دارومدار ملکی حالات پر ہوتا ہے، اگر ملک میں سیاسی افراتفری ہوگی، اور دہشتگری کا خاتمہ نہیں ہوگا، تو پھر ایسے کون اپنا سرمایہ لگائے گا۔

انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے کردار ادا کررہے ہیں، لیکن تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اپوزیشن کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں، انہیں اپنی ذمہ داری کا علم ہونا چاہیے، ان کے قومی فرائض کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی کوشش ہے کہ بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے اور بلوچستان میں امن قائم ہو۔ 2013 میں جب ہم آئے تو بلوچستان میں حالات بہت خراب تھے، لیکن پھر ہم نے صورت حال کنٹرول کیا۔

احسن اقبال نے کہاکہ پی ٹی آئی دور میں جہاں معیشت کا بھٹہ بٹھایا گیا وہیں ان کے دور میں دہشتگردی واپس آئی، پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے جا کر ملتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، ہم نے 40 لاکھ افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی۔

یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت نے پاکستان پر حملے کے لیے افغانستان کا استعمال کیا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، پاکستان

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ معرکہ حق نے پاکستان کی پروفائل کو یکسر بدل کر رکھ دیا، جس کا کریڈٹ سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews احسن اقبال پاک افغان تعلقات دہشتگردی سی پیک فیز ٹو فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیر پلاننگ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احسن اقبال پاک افغان تعلقات دہشتگردی سی پیک فیز ٹو فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیر پلاننگ وی نیوز انہوں نے کہاکہ سی پیک فیز ٹو احسن اقبال کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی