امریکی حکام نے ریاست الینوائے کے قصبے وینتھروپ ہاربر سے 57 سالہ ٹرینٹ شنائیڈر کو گرفتار کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے انسٹاگرام پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا۔

محکمۂ انصاف کے مطابق، شنائیڈر کو پیر کی صبح حراست میں لیا گیا اور اسی روز شکاگو میں فیڈرل مجسٹریٹ جج کے سامنے پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سی بی ایس کی ’کٹ اینڈ پیسٹ‘ پالیسی پر صدر ٹرمپ کی نئی چوٹ

فوجداری شکایت میں کہا گیا ہے کہ شنائیڈر نے انسٹاگرام اکاؤنٹ ٹروتھ ریپر888  پر متعدد بار ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کیں جن میں صدر کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی۔ ایک ویڈیو میں اس نے کہا کہ لوگوں کو مرنا چاہیے۔

Man arrested over online posts calling for Trump's execution https://t.

co/cAdBLrJzQu

— #TuckFrump (@realTuckFrumper) November 4, 2025

’خاص طور پر تم، ٹرمپ! تمہیں سزائے موت دی جانی چاہیے۔‘

یہ ویڈیو اکتوبر کے وسط میں 18 بار پوسٹ کی گئی جبکہ 20 دیگر پوسٹس میں صدر کی تصویر کے ساتھ ’ ڈونلڈ ٹرمپ کو سزائے موت ملنی چاہیے‘ جیسے کیپشن شامل تھے۔

حکام کے مطابق، فلوریڈا کے ایک شہری نے یہ پوسٹس دیکھ کر اطلاع دی جس کے بعد کارروائی شروع ہوئی، عدالت کے ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ شنائیڈر مالی مشکلات کا شکار تھا اور اسی دن اس کے گھر کی نیلامی طے تھی۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت جنگ روکنے کا 57ویں مرتبہ تذکرہ، ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ کسی بھی تعاون کا امکان مسترد کردیا

یہ پہلا واقعہ نہیں جب شنائیڈر نے اس نوعیت کے اشتعال انگیز بیانات دیے، 2022 میں بھی اسے سرکاری اہلکاروں کے خلاف آن لائن دھمکیوں پر گرفتار کیا گیا تھا، مگر 2023 میں اسے مقدمے کے لیے ذہنی طور پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔

یہ تازہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ جولائی 2024 میں قاتلانہ حملے سے بال بال بچے تھے۔ وفاقی پروسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ایسی آن لائن دھمکیوں کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتعال انگیز الینوائے آن لائن انسٹاگرام دھمکی آمیز صدر ٹرمپ فلوریڈا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اشتعال انگیز الینوائے ا ن لائن انسٹاگرام دھمکی آمیز فلوریڈا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا