نیوزی لینڈ کی 17 سال بعد ہوم گراؤنڈ پر انگلینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز میں فتح
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کیخلاف مجموعی طور پر 12 اور ہوم گراؤنڈ پر 17 سال بعد ون ڈے سیریز جیت لی۔
تفصیلات کے مطابق ہیملٹن میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تو انگلش بیٹنگ لائن پھر ناکام ہوگئی۔
انگلینڈ کی ٹیم 40 اوورز بھی نہ کھیل پائی اور 36 اوورز میں 175 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ جیمی اوورٹن 42 اور کپتان ہیری بروک 34 رنز بناکر نمایاں رہے۔
جو روٹ 25، جیکب بیتھل 18، سیم کرن 17 اور جیمی اسمتھ 13 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ جوز بٹلر اور عادل رشید 9،9، برائیڈن کارس 3 اور بین ڈکٹ ایک رن بناسکے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے بلیئر ٹکنر نے 4، نیتھن اسمتھ نے 2 جبکہ جیکب ڈفی، ذاکری فوکس، مچل سینٹنر اور مائیکل بریسویل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
پہلے ہی اوور میں ول ینگ کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد نیوزی لینڈ نے قدرے محتاط انداز میں آغاز کیا تاہم بعد میں تیز کھیل کر ہدف باآسانی 33.
ڈیرل مچل 56 اور کپتان مچل سینٹنر برق رفتار 34 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔ رچن رویندرا 54 اور کین ولیمسن 21 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
انگلینڈ کی جانب سے جوفرا آرچر نے 3 جبکہ عادل رشید اور جیمی اورٹن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
نیوزی لینڈ کو تین ون ڈے میچز کی سیریز میں 0-2 کی ناقابل شکست برتری حاصل ہوگئی ہے۔
A five-wicket win seals the Chemist Warehouse ODI series with a game in hand ????
Catch the full score at https://t.co/3YsfR1Y3Sm or on the NZC app.
???? @PhotosportNZ pic.twitter.com/4Ss8HYqR1G
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے آخری مرتبہ انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز 2013 میں جیتی تھی جبکہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر 2008 کے بعد انگلینڈ کے خلاف یہ پہلی سیریز میں فتح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کی رنز بناکر لینڈ کی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :