خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات اور جانی نقصان کی پولیس رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
خیبر پختونخوا پولیس نے سال 2025 کے دوران دہشتگردی کے واقعات اور جانی نقصان کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس سال صوبے میں ایک ہزار 588 دہشتگردی کے واقعات پیش آئے جن میں 223 شہری شہید اور 570 زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: 2025 میں 78 ہزار آپریشنز کے دوران 700 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان حملوں میں 137 پولیس اہلکار شہید اور 236 زخمی ہوئے، جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 18 اہلکار بھی جان کی بازی ہار گئے۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے 124 جوان بھی شہید اور 244 زخمی ہوئے۔
اسی دوران مختلف کارروائیوں میں 348 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ دہشت گردی کے سب سے زیادہ کیسز بنوں ریجن میں درج ہوئے، جہاں 394 حملے رپورٹ ہوئے۔
بنوں میں 41 پولیس اہلکار اور 54 شہری شہید ہوئے جبکہ 89 پولیس اہلکار اور 125 شہری زخمی ہوئے۔
ڈیرہ اسماعیل خان ریجن میں 152 مقدمات درج کیے گئے، اور یہاں 137 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ شمالی وزیرستان میں 181 کیس رجسٹرڈ ہوئے، جہاں 38 شہری شہید اور 182 زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں: دہشتگردی کا سدباب: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے پاکستان میں دفاتر قائم کرنے کا ایک بار پھر مطالبہ
جنوبی وزیرستان میں 103 دہشتگردی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جس میں 39 شہری شہید اور 86 زخمی ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پولیس رپورٹ خیبرپختونخوا دہشتگردی واقعات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس رپورٹ خیبرپختونخوا دہشتگردی واقعات وی نیوز دہشتگردی کے شہری شہید زخمی ہوئے شہید اور
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔