سڈنی کے بونڈی بیچ پر فائرنگ، 10 افراد ہلاک، 12 زخمی، ایک حملہ آور مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سڈنی:آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک جبکہ 12 زخمی ہو گئے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو مسلح افراد نے ساحل پر موجود شہریوں پر اچانک فائرنگ شروع کر دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے جبکہ دوسرے مشتبہ حملہ آور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، واقعے کے فوراً بعد پولیس اور ہنگامی امدادی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فائرنگ یہودیوں کے ایک مذہبی تہوار کی تقریب کے دوران ہوئی، جس کے باعث ساحل پر بڑی تعداد میں شہری موجود تھے، واقعے کے بعد پولیس نے مقامی آبادی کو بونڈی بیچ کے قریب جانے سے روک دیا اور سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث دو افراد میں سے ایک موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ دوسرے کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے، آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) نے بھی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک مسلح شخص شامل ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز ایمبولینس سروس کے ترجمان کے مطابق فائرنگ کے بعد ایک درجن کے قریب زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانی نے واقعے کو انتہائی صدمہ اور تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی بھی کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔