کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں شدت، تھائی وزیراعظم نے اچانک پارلیمنٹ تحلیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
تھائی لینڈ کے وزیراعظم انوتن چرن وراکل نے کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں اضافے اور حکومتی دباؤ بڑھنے کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کردی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وزیراعظم نے شاہی فرمان پڑھ کر پارلیمنٹ کی تحلیل کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام مسائل کے حل کی واحد راہ سیاسی اختیار کو عوام کے سپرد کرنا ہے۔
انوتن چرن وراکل نے صرف تین ماہ قبل حکومت سنبھالی تھی، تاہم ان کی اقلیتی حکومت کو سرحدی کشیدگی، گزشتہ ماہ آنے والے سنگین سیلاب اور اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے خطرے جیسے مسائل کا سامنا تھا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نے عہدہ سنبھالتے ہی کہا تھا کہ وہ جنوری 2026 کے آخر تک پارلیمنٹ تحلیل کر دیں گے، تاہم خراب ملکی حالات کے پیشِ نظر انہوں نے یہ فیصلہ قبل از وقت کر لیا۔
واضح رہے کہ انوتن چرن وراکل سے قبل وزیراعظم پائیتونترانگ شیناوترے کو اخلاقی ضابطے کی خلاف ورزی پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا، جب وہ کمبوڈیا کے سابق رہنما ہون سونگ کو "انکل" کہہ کر مخاطب کرتے پائے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔