کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں شدت، تھائی وزیراعظم نے اچانک پارلیمنٹ تحلیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
تھائی لینڈ کے وزیراعظم انوتن چرن وراکل نے کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں اضافے اور حکومتی دباؤ بڑھنے کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کردی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق وزیراعظم نے شاہی فرمان پڑھ کر پارلیمنٹ کی تحلیل کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام مسائل کے حل کی واحد راہ سیاسی اختیار کو عوام کے سپرد کرنا ہے۔
انوتن چرن وراکل نے صرف تین ماہ قبل حکومت سنبھالی تھی، تاہم ان کی اقلیتی حکومت کو سرحدی کشیدگی، گزشتہ ماہ آنے والے سنگین سیلاب اور اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے خطرے جیسے مسائل کا سامنا تھا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نے عہدہ سنبھالتے ہی کہا تھا کہ وہ جنوری 2026 کے آخر تک پارلیمنٹ تحلیل کر دیں گے، تاہم خراب ملکی حالات کے پیشِ نظر انہوں نے یہ فیصلہ قبل از وقت کر لیا۔
واضح رہے کہ انوتن چرن وراکل سے قبل وزیراعظم پائیتونترانگ شیناوترے کو اخلاقی ضابطے کی خلاف ورزی پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا، جب وہ کمبوڈیا کے سابق رہنما ہون سونگ کو "انکل" کہہ کر مخاطب کرتے پائے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔