چینی سرمایہ کاروں اور انجینئرز کی محفوظ نقل و حرکت: محکمہ داخلہ پنجاب کو بلٹ پروف کار کا تحفہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
چینی قونصل جنرل نے ایک بلٹ پروف کار محکمہ داخلہ پنجاب کے حوالے کی ہے، جو چینی سرمایہ کاروں اور انجینئرز کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوگی۔
چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرین نے سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سے ملاقات میں اس حوالے سے معاہدے پر دستخط بھی کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی جیلوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، سنگین وارداتوں کے 240 مقدمات حل
دونوں رہنماؤں نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور صوبے میں مقیم چینی باشندوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا۔
چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرین نے کہا کہ چین پاکستان میں بڑے انفرا اسٹرکچر منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور چینی کمپنیاں یہاں مزید سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔
انہوں نے پنجاب میں امن و امان کے قیام کے لیے محکمہ داخلہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں اور انجینیئرز کے تحفظ کے لیے حکومت پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ کیوں؟ محکمہ داخلہ نے بتادیا
سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ سی پیک پروجیکٹس پر کام کرنے والے آفیشلز اور سیاحوں کی حفاظت حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں موجود تمام چینی باشندوں کی سیکیورٹی اور سہولت کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے، جبکہ حکومت پنجاب نے اپنے وسائل سے ایک بلٹ پروف وین بھی فراہم کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام انڈسٹریل زونز میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کی استعداد میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈسٹریل زونز بلٹ پروف پنجاب چینی قونصل جنرل چینی کمپنیاں ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سیکریٹری داخلہ محکمہ داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈسٹریل زونز بلٹ پروف چینی قونصل جنرل چینی کمپنیاں ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سیکریٹری داخلہ محکمہ داخلہ چینی قونصل جنرل محکمہ داخلہ بلٹ پروف کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔