data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ حکمران 1973ءکے متفقہ آئین کو کھلواڑ بنانا چاہتے ہیں، پہلے ترمیم جنرل باجوہ کے دباﺅ پر کی گئی تھی اور اب بھی یہی تاثر ہے کہ دباﺅ کی وجہ سے 27ویں ترمیم لائی جارہی ہے اور ماحول کو شدت کی جانب لے جایا جارہا ہے ‘پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پالیسیوں میں تبدیلی لائے اگر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا جائز ہے تو یہ بھارت کے لیے بھی جواز بن سکتا ہے‘ حکومت اور خصوصاً پنجاب میں دینی مدارس اور علما کے ساتھ توہین آمیز رویہ رکھا جارہا ہے حکمران دینی مدارس کے خلاف کاروائیاں کرکے مغربی دنیا کو خو ش کرنا چاہتے ہیں یہ طریقہ کار دست نہیں ہے۔

بدھ اور جمعرات کی شب اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ملک کے متفقہ آئین کو کھلواڑ نہیں بننا چاہیے، ایک سال میں دوسری مرتبہ ترمیم آرہی ہے انہوں نے کہاکہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے اپنی نگرانی میں ترمیم کرائی اب پھر وہی ہونے کا تاثر ہے اور جب جبرکے تحت ترامیم کی جائیں گی تو پھر عوام کاکیا اعتقاد آئین پر رہ جائے گا۔

 مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم نے چھبیسویں ترمیم کے موقع پرحکومت کو34 شقوں سے دستبردار کرایا تھا اور جو 26ویں ترمیم سے بچایا اب پھر وہی کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، انہوں نے کہاکہ ہمیں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ نہیں ملا،ہم 27 ویں ترمیم پر پوری اپوزیشن کے ساتھ مل کر متفقہ رائے بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ معتدل ماحول کو شدت کی طرف لے جایا جارہا ہے ایک وزیر تین ماہ سے اس ترمیم پر کام کررہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ ترمیم کہیں اور سے آئی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج افغانستان پر جو الزام لگایا جارہا ہے کل یہی ایران پرلگایا جارہا تھا، ہمیں پروپاکستان افغانستان چاہئے اگر پاکستان میں دہشت گرد ہیں تو یہ ہمارا داخلی مسئلہ ہے اگر افغانستان میں مراکزپر حملہ درست ہے تو کل مریدکے اور بہاولپور پر بھارتی حملے کو جوازملے گا۔

انہوں نے کہاکہ مسئلہ افغان حکومت سے ہے اور سزا مہاجرین کو دی جارہی ہے۔ جنگ کے بعد بھی تو بات چیت کی ہے اگر یہ پہلے ہی کرلیتے تو بہتر ہوتا ، نہ آرمی چیف نہ وزیر اعظم اور نہ ہی بیورو کریسی سے ہماری کوئی لڑائی ہے ہم ملک میں تلخی کا ماحول کم کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہاکہ دینی مدارس کے حوالے سے فیض حمید، باجوہ اور موجودہ کی پالیسی ایک کیوں ہے، انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) علما کی توہین کررہی ہے، ایک امام کی نصیحت تنقید کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اس کا مطلب ہے یہ حکمران نہیں ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے ساتھ ابھی ملاقات کی ابتدا کی ہے لیکن کوئی تفصیلی بات نہیں کی ہے اگر اپوزیشن سب سے بات کرنے پر آمادہ ہوتی ہے تو یہ بہتر ہے اور ابھی مسودہ آیا نہیں ہے آئے گا تو اپنی پارٹی میں بھی بات کریں گے جو اپنے لیے بہتر سمجھتا ہوں وہی دوسرے کے لیے بہتر سمجھوں گا، پیپلز پارٹی کو ہمت کرنی چاہیے انھیں اپنا رول ادا کرنا ہو گا میں پیپلز پارٹی سے بات بھی کروں گا حکومت کو 27ویں ترمیم سے باز آ جانا چاہیے، یہ ترمیم قوم کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گی یہ حکومت 27 ویں اور 28 ویں ترمیم چھوڑ دے اور دیگر مسائل پر توجہ دے۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ مولانا فضل فضل الرحمن جارہا ہے کے ساتھ ہے اور

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن