دفاعی تقاضے بدل جانے کے باعث آرٹیکل 243 میں ترمیم پر غور کیا جارہا ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم تاحال حتمی مرحلے میں نہیں پہنچی، جبکہ آرٹیکل 243 میں ممکنہ ترمیم کے حوالے سے مختلف فریقین سے مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام عمل باہمی اتفاقِ رائے سے مکمل کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ اگرچہ آئینی مقدمات کی تعداد صرف 6 فیصد ہے، لیکن ان کی نوعیت پیچیدہ ہونے کے باعث فیصلوں میں وقت لگتا ہے۔ روزمرہ مقدمات سننے والے جج ہی آئینی نوعیت کے کیسز بھی نمٹاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 27ویں ترمیم کے مسودے پر نواز شریف سے مشاورت ہوگی، سینیٹ سے پاس کروانے کے لیے پی ٹی آئی سے بھی رابطہ ہے: خرم دستگیر
وزیرِ دفاع نے کہاکہ عدالتی نظام میں بہتری کے لیے مختلف بینچز تشکیل دیے جا رہے ہیں، مگر اس عمل پر تنقید بھی کی جا رہی ہے، گویا عدالت کے اندر ایک اور عدالت بن گئی ہو۔ ان کے مطابق ایک تجویز یہ بھی زیرِ غور ہے کہ ایک علیحدہ آئینی عدالت قائم کی جائے جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی شامل ہو۔
خواجہ آصف نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق ڈیڈلاک کی صورت میں معاملہ تیسرے ادارے کے پاس جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیاکہ خیبر پختونخوا کے انتخابات میں تاخیر کے باعث بعض آئینی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ڈیڑھ سال کے اس وقفے میں نہ صرف مدت پوری ہو بلکہ کسی بھی آئینی خلا سے بچا جا سکے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ سینیٹ اور صدارتی انتخابات سمیت دیگر آئینی معاملات میں ممکنہ الجھنوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری سقم دور کیے جا رہے ہیں۔ ججز کی تقرری و تبادلوں سے متعلق امور جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیے جائیں گے۔
وزیرِ دفاع نے واضح کیاکہ دفاعی تقاضوں میں تبدیلی کے باعث آرٹیکل 243 میں ترمیم پر غور کیا جارہا ہے، تاہم جب تک مشاورت مکمل نہیں ہوتی، کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
انہوں نے بتایاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ دو سے تین روز میں اتفاقِ رائے کی صورتِ حال واضح ہو جائے گی۔ ممکنہ طور پر 27ویں آئینی ترمیم اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: 27ویں ترمیم کا مسودہ سامنے آنے تک نکات پر بات نہیں کر سکتے، مولانا فضل الرحمان
افغانستان سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہاکہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہماری سرزمین کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو پاکستان کو بھی اسی انداز میں جواب دینا پڑے گا جیسا اس کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آرٹیکل 243 ترمیم خواجہ آصف دفاعی تقاضے ستائیسویں آئینی ترمیم وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رٹیکل 243 ترمیم خواجہ ا صف دفاعی تقاضے ستائیسویں ا ئینی ترمیم وزیر دفاع وی نیوز خواجہ آصف نے نے کہاکہ کے باعث کے لیے کیا جا
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔