چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر بھارت کی افغان طالبان کو ڈیم بنانے میں مدد کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت نے چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر افغان طالبان کی جانب سے ڈیم بنانے میں مدد کی پیشکش کردی۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق گزشتہ دنوں افغانستان میں برسراقتدار طالبان رجیم کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے وزارت توانائی کو چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر جلد از جلد ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔
افغان میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا تھا کہ ڈیم کیلئے ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے جائیں اور غیر ملکی کمپنیوں کا انتظار نہ کیا جائے۔
اب بھارت نے چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر افغان طالبان کی جانب سے ڈیم بنانے میں مدد کی پیشکش کردی۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹس کی تعمیر میں افغانستان کی مدد کیلئے تیار ہے، دونوں ممالک میں پانی سے متعلق معاملات میں تعاون کی ایک تاریخ ہے، ہرات میں سلما ڈیم کی مثال موجود ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان نے بھارتی اعلان کا خیرمقدم کیا اور قطر میں طالبان کے سفیر سہیل شاہین نے دی ہندو سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔
خیال رہے کہ دریائے کنڑ چترال سے نکلتا ہے اور تقریباً 482 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد دریائے کابل میں شامل ہو کر واپس پاکستان آتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان طالبان مدد کی
پڑھیں:
اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
وزیر اعلیٰ نے انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقات میں جی بی میں حکومت سازی، خطے کے مسائل اور پارٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔