کوالالمپور میں تاریخی امن معاہدہ، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان برسوں پرانا سرحدی تنازع ختم
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوالالمپور: کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان برسوں سے جاری سرحدی تنازع بالآخر ختم ہوگیا، دونوں ممالک نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں امن معاہدے پر دستخط کر دیے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ آسیان سمٹ کے 47ویں اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پایا، اس موقع پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم، کمبوڈین وزیراعظم ہن منیت اور تھائی وزیراعظم انوٹن چرن ویراکول بھی موجود تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک تمام دشمنیوں کے خاتمے اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے قیام پر متفق ہو گئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت 18 کمبوڈین جنگی قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں آئے گی جب کہ آسیان ممالک کے مبصرین کو سرحدی علاقوں میں تعینات کیا جائے گا تاکہ امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
خیال رہےکہ جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے تھے، صدر ٹرمپ اور وزیراعظم انور ابراہیم کی مشترکہ کوششوں سے فائربندی عمل میں آئی جس کے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی کم ہوئی۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم دونوں ممالک کے ساتھ وسیع کاروبار کرتے ہیں، اور اب ہم اسی تعاون کو پائیدار امن کے لیے استعمال کریں گے۔ یہ امن دیرپا ثابت ہوگا۔
کمبوڈین وزیراعظم ہن منیت نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے امریکی صدر کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے جو کمبوڈین عوام کی جانب سے اظہارِ تشکر ہے، کمبوڈیا امن کے اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو دیرپا فائدہ پہنچے۔
تھائی وزیراعظم انوٹن نے کہا کہ یہ معاہدہ ہماری مشترکہ خواہش کا عکاس ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں اور ایک نئے دور کا آغاز کریں۔ ہمارے عوام عزت کے ساتھ امن کے حقدار ہیں۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھی دونوں ممالک کے رہنماؤں اور امریکی صدر کی کوششوں کو سراہاتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آج ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو امن کے قیام کے لیے روایتی حدیں توڑنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے امریکی صدر کے درمیان کہا کہ امن کے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔