فٹبال کوچ کو خاتون کیساتھ نازیبا تعلقات پر برطرفی کے بعد گرفتار بھی کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
یونیورسٹی آف مشی گن کے فٹبال کوچ شیروون مور کو خاتون عملے کے ساتھ نازیبا تعلقات پر برطرف کرنے کے چند گھنٹوں بعد حراست میں بھی لے لیا گیا۔
یونیورسٹی آف مشی گن کے فٹبال کوچ شیروون مور پر الزام تھا کہ انھوں نے ٹیم کے عملے میں شامل ایک خاتون کے ساتھ نامناسب تعلق قائم کیا تھا۔
بعد ازاں کوچ شیرون مور اُن خاتون کے ساتھ نامناسب رویّے اور استحصال کے مرتکب بھی پائے گئے تھے جس پر انھیں ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔
اس کے چند گھنٹوں بعد ہی مبینہ حملے کے الزام میں شیروون مور کو حراست میں لے کر جیل منتقل کردیا گیا جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اس لیے تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں البتہ کیس پراسیکیوٹر کو بھیج دیا گیا ہے۔
قبل ازیں یونیورسٹی آف مشی گن نے فٹبال کوچ کی برطرفی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک اندرونی تفتیش میں قابل اعتماد شواہد ملنے پر یہ فیصلہ لیا گیا۔
یونیورسٹی ایتھلیٹک ڈائریکٹر کے بقول فٹبال کوچ نے عملے کی رکن کے ساتھ نامناسب تعلقات قائم کیے جو یونیورسٹی پالیسی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
شیروون مور کی برطرفی کے ساتھ یونیورسٹی آف مشی گن نے بِف پوگی کو فٹبال ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کر دیا۔
یاد رہے کہ شیروون مور کو چالاکی سے مخالف ٹیم کے گیم پلان سے متعلق آن فیلڈ اشارے دیکھنے کے الزام میں سیزن سے پہلے ہی دو میچوں کی معطلی کا سامنا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شیروون مور فٹبال کوچ کے ساتھ
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں