ٹرمپ دور میں پاک امریکا تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، نیٹلی بیکر
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے صدر ٹرمپ کے دور میں پاک امریکا تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، تعلیم،تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اضافے کے لیے کام جاری ہے۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر کے ہمراہ جدید تعلیمی وسائل سے آراستہ امریکی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی پروقار عمارت کا افتتاح کیا۔
نیٹلی بیکر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاک امریکا تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، ہم تعلیم، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اضافے کے لیے کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے بہت مثبت توقع رکھتی ہوں، صدر ٹرمپ کی زیر نگرانی ہمارے تعلقات بھرپور طریقے سے آگے بڑھے ہیں۔
نیٹلی نے کہا کہ ہماری واشنگٹن ڈی سی اور پاکستان میں متعدد انگیجمنٹس ہوئیں، مستقبل کے لیے ہم تعلیم، تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے کام کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا و پاکستان میں نئے شعبہ جات جیسے ٹیکنالوجی و آئی ٹی میں مزید سرمایہ کاری حاصل کرنا شامل ہے اور یقیناً ہماری بڑی لمبی گہری سیکیورٹی شراکت داری ہے۔
وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے جدید وسائل سے بھرپور اس نئی عمارت کو پاکستانی طلبہ کے لیے نئے مواقع کا مرکز قراردیا۔
واضح رہے کہ امریکی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی اسلام آباد میں عمارت جدید لنکنز کارنر لائبریری، تھری ڈی پاڈ کاسٹ سینٹر اور دیگر سہولیات سے لیس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں پاک امریکا تعلقات سرمایہ کاری نیٹلی بیکر کے لیے نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔