data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251210-11-13
ٹنڈو محمد خان (نمائندہ جسارت)ایس ایس پی حسیب جاوید سومار میمن کے احکامات پر ضلع بھر میں مین پوری گٹکا، خام مال چورا سپلائرز اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف کارروائیوں میں 2 خواتین سمیت 13 ملزمان گرفتار ، جن سے 10 کٹے مین پوری چورا، 5350 مین پوریاں، 2250 سفینہ گٹکا اور کچی شراب برآمد کرکے مقدمات درج کرلیے۔مین پوری چورا سپلائی میں زیر استعمال ایک سوزوکی مہران کار کو پولیس تحویل میں لے لیا۔ایس ایچ او تھانہ بی سیکشن کا اپنے دیگر پولیس اسٹاف کے ہمراہ دوران چیکنگ کارروائی 2 بین الصوبائی مین پوری گٹکا چورا سپلائر میر حسن میرالی اور امان اللہ بروہی سکنہ اوستا محمد ضلع جعفرآباد بلوچستان کو گرفتار کرلیا، دوران تلاشی سوزوکی مہران کار سے 10 کٹے بیگ مین پوری گٹکا چورا خام مال اور 1000 مین پوریاں برآمد کرکے مقدمہ درج کر لیا۔ مہران کار کو پولیس تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ایس ایچ او تھانہ وومن نے اپنے دیگر ماتحت پولیس اسٹاف کے ہمراہ کارروائی 2 خواتین مین پوری فروش شریمتی سلمیٰ اور شریمتی اومیا کو گرفتار کرلیا جن سے 600 مین پوریاں برآمد کرکے مین پوری گٹکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ایس ایچ او تھانہ سٹی کا اپنے پولیس اسٹاف کے ہمراہ کارروائی ایک مین پوری سپلائر خدا بخش چوہان کو گرفتار کرلیا، جس کے قبضے سے 1050 مین پوریاں برآمد کرکے مقدمہ درج کر لیا۔ایس ایچ او تھانہ بلڑی شاہ کریم نے اپنے دیگر ماتحت پولیس اسٹاف کے ہمراہ کارروائی ایک مین پوری فروش دین محمد لاشاری کو گرفتار کرلیا جس سے 450 مین پوریاں برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیا۔ ایس ایچ او تھانہ ٹنڈو غلام حیدر نے اپنے دیگر ماتحت پولیس اسٹاف کے ہمراہ مختلف کارروائیوں میں 3 سفینہ گٹکا اور مین پوری سپلائر عبدالقیوم لاشاری احسان علی چانڈیو – ممتاز علی سھتو کو گرفتار کرلیا جن سے 2500 سفینہ گٹکا اور 200 مین پوریاں برآمد کرکے مین پوری گٹکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے۔ایس ایچ او تھانہ شیخ بھرکیو نے اپنے دیگر ماتحت پولیس اسٹاف کے ہمراہ مختلف کارروائیوں میں ملزمان محمد صالح ٹنگڑی اور علی غلام شیخ کو گرفتار کرلیا جن سے 10 لیٹرز کچی شراب اور 500 مین پوریاں برآمد کرکے مین پوری گٹکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ ایس ایچ او تھانہ آبادگار نے اپنے دیگر ماتحت پولیس اسٹاف کے ہمراہ کارروائی ایک مین پوری فروش واحد بخش کھوسو کو گرفتار کرلیا جس سے 1000 مین پوریاں برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیا۔ایس ایچ او تھانہ ملاکاتیار نے اپنے دیگر ماتحت پولیس اسٹاف کے ہمراہ کارروائی ایک مین پوری فروش ہمتھو ٹھاکر کو گرفتار کرلیا جس سے 300 مین پوریاں برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مین پوریاں برا مد کرکے مقدمہ درج کو گرفتار کرلیا مقدمہ درج کرلیا مین پوری فروش

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار