35ویں نیشنل گیمز: دفاعی چیمپئن پاکستان آرمی کی سبقت جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
کراچی میں جاری 35ویں نیشنل گیمز میں دفاعی چیمپئن پاکستان آرمی کی سبقت جاری ہے۔
ایتھلیٹکس چیمپین شپ کے دوسرے روز منگل کو 20 کلومیٹر کی واک ریس پاکستان آرمی کے قاسم فیض نے جیت لی۔قاسم فیض نے مقررہ فاصلہ ایک گھنٹے 28 منٹ 12.2 سیکنڈ میں طے کر کے پہلی پوزیشن کے ساتھ گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ واپڈا کے محمد وقاص نے سلور اور پاکستان آرمی کے عدنان معاذ نے برانز میڈل جیتا۔
پی این ایس کارساز کےنیشنل فزیکل ٹریننگ اینڈ اسپورٹس سینٹر کی ٹریک پر منعقدہ مردوں کی 800 سو میٹر کی دوڑ بھی پاکستان آرمی کے وقاص اکبر نے جیت لی۔انہوں نے ایک منٹ49.
خواتین کی 5کلومیٹر کی واک ریس پاکستان واپڈا کی امارہ نے جیت لی۔انہوں نے34.12 سیکنڈ کے ساتھ گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔2 سیکنڈ کے فرق کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی سندھ کی ماہ نور سلور میڈل کے حقدار قرار پائیں جبکہ پاکستان آرمی کی کنول فیض 34.17 سیکنڈ کے ساتھ سوئم رہیں اور برانز میڈل جیتا۔
جمناسٹکس چیمپئن شپ واپڈا نے جیت لی۔واپڈا نے مجموعی طور پر 264.95 پوائنٹس کے ساتھ پہلی، پاکستان آرمی نےدوسری اور ایچ ای سی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
فلور ایونٹ میں شاہ جہان (واپڈا) اور ایم وقاص (پنجاب) 11.35 پوائنٹس کے ساتھ مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر رہے، عبدالوہاب (آرمی) تیسرے نمبر پر رہے۔ پومیل ہارس میں فیضان (ایچ ای سی) 11.05 پوائنٹس کے ساتھ پہلے، معاز خان (آرمی) دوسرے اور محمد افضل (واپڈا) تیسرے نمبر پر رہے۔ والٹ ایونٹ میں واپڈا کے محمد افضل اور شہزاد علی نے 11.60 پوائنٹس کے ساتھ مشترکہ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پنجاب کے ایم وقاص دوسرے اور سندھ کے عبدالصمد تیسرے نمبر پر رہے۔ پیرالیل بارز میں محمد افضل (واپڈا) پہلے، آرمی کے منتظرمہدی دوسرے اور اسکار خان تیسرے نمبر پر رہے۔
رنگز ایونٹ میں شاہ جہان سرفہرست، آرمی کے عمیر دوسرے اور شہزاد علی (واپڈا) تیسرے نمبر پر رہے۔ ہائی بار میں شاہ جہان (واپڈا) پہلے نمبر پر آئے، محمد احسان (آرمی) دوسرے اور محمد سہیل (پنجاب) تیسرے نمبر پر رہے۔ بہترین جمناسٹ کا اعزاز بھی واپڈا کے شاہ جہان نے اپنے نام کیا۔محمد افضل (واپڈا) دوسرے اور محمد احسان (آرمی) تیسرے نمبر پر رہے۔
کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کے سوئمنگ پول پر گزشتہ روز مقابلوں کا آغاز خواتین ایونٹ سے ہوا جس میں پاکستان آرمی نے پانچ گولڈ اور ایک برانز میڈل جیت کر میڈل ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ سندھ نے ایک گولڈ اور تین سلور میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔واپڈا نے تین سلور کے ساتھ تیسری اور پنجاب نے تین برانز میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن سنبھالی۔نیوی اور اسلام آباد نے ایک ایک برانز میڈل حاصل کیا،مردوں کے سوئمنگ مقابلوں میں پہلے روز پاکستان آرمی کے پیراک سر فہرست رہے۔آرمی نے 6 گولڈ اور 5 سلور میڈل اپنے نام کیے، محمد احمد درانی اور بسیم حسین نے2،2 گولڈ میڈل جیتے ،واپڈا کے حمزہ آصف نے ایک طلائی تمغہ جیتا۔
خواتین کے سوئمنگ مقابلوں کے پہلے روز کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کے سوئمنگ پول پر پاکستان آرمی نے پانچ گولڈ اور ایک برانز میڈل جیت کر میڈل ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ سندھ نے ایک گولڈ اور 3 سلور میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی،واپڈا نے 3 سلور کے ساتھ تیسری اور پنجاب نے 3 برانز میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن پائی،نیوی اور اسلام آباد نے ایک ایک برانز میڈل حاصل کیا۔
پاکستان آرمی کی بسمہ خان اور جہاں آرا نبی نے دو دو گول محل جیتے،400میٹرز انفرادی میڈلے اور 100میٹرز فری اسٹائل میں آرمی کی جہاں آرا نبی نے،50میٹرز بٹر فلائی اور200میٹرز بیک اسٹروک میں آرمی کی بسمہ خان نے اور 200 میٹرز بریسٹ اسٹروک میں سندھ کی حریم ملک نے گولڈ میڈل جیتا جبکہ 4x100میٹرز فری اسٹائل ریلے میں ٹیم آرمی نے گولڈ،واپڈا نے سلور اور پنجاب نے برانزمیڈل اپنے نام کیا۔
آرمی نےمینز اسکواش ٹیم ایونٹ جیت لیا۔آرمی نےفائنل میں پاکستان واپڈا کو0-2 سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔پہلے میچ میں پاکستان آرمی کے سابق عالمی جونیئر چیمپئن حمزہ خان نے سابق قومی چیمپئن ناصر اقبال کو سخت مقابلے کے بعد 2-3 سے شکست دی۔ دوسرے میچ میں عالمی نمبر 47 محمد اشعب عرفان نے عالمی انڈر 23 چیمپئن نور زمان کو دلچسپ مقابلے کے بعد 2-3 سے قابو کیا۔
پی اے ایف اور پنجاب نے برانز میڈلز حاصل کیے۔ پاکستان آرمی نے شوٹنگ مقابلوں کے تیسرے روز بھی برتری برقرار رکھی اورگولڈ میڈلز کی تعداد11کر لی،پاکستان نیوی نے 9گولڈ میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن پر قبضہ جمائے رکھا،پی این کارساز کے شوٹنگ رینج پر جاری نیشنل گیمز کے شوٹنگ ایونٹ میں پاکستان آرمی 11گولڈ،10سلور اور 3برانز میڈلز کے ساتھ میڈل ٹیبل پر سر فہرست ہے،پاکستان نیوی کے شوٹرز9گولڈ،8 سلور اور 8 برانز میڈلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہی،پی سے ایف نے2سلور اور 4 برانز،ایچ ای سی نے 3 اور سندھ نے2 برانز میڈلز جیتے۔
10 میٹرز ائیر رائفل مینز میں نیوی کے عاقب الطاف نے گولڈ،آرمی کے محمد عثمان نے سلوراور آرمی ہی کے سلیمان خان نے برانز میڈل جیتا، اسی کیٹیگری کے ٹیم ایونٹ میں آرمی نے گولڈ،نیوی نے سلور اور پی اے ایف نے برانز میڈل حاصل کیا۔ 25میٹرز پسٹل ویمنز میں نیوی کی رسم گل نے گولڈ،آرمی کی کشمالہ طلعت نے سلور اور نیوی کی رابعہ کبیر نے برانز میڈل جیتا، ٹیم ایونٹ میں نیوی نے گولڈ،آرمی نے سلور اورایچ ای سی نے برانز میڈل اپنے نام کیا۔
کبڈی (ایشیئن اسٹائل) میں پہلے دن مردوں کے مقابلوں میں واپڈا نے کے پی کے، پی اے ایف نے سندھ، آرمی نے پنجاب اور نیوی نے کے پی کے کو ہرا دیا۔ خواتین کے مقابلوں میں آرمی نے سندھ اور واپڈا نے بلوچستان کو مات دی۔
مینز ہاکی میں پاکستان آرمی نے پاکستان نیوی کو1-3 مات دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔ پاکستان آرمی نے رگبی میں گولڈ اور واپڈا نے سلور میڈل حاصل کیا۔ٹینس مینز ٹیم ایونٹ کہ فائنل میں پاکستان آرمی نے پاکستان واپڈا کو1-2 سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا، پاکستان واپڈا کو سلور میڈل پر قناعت کرنا پڑی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گولڈ میڈل اپنے نام کیا کے ساتھ دوسری پوزیشن پہلی پوزیشن حاصل کی برانز میڈلز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے میں پاکستان آرمی پاکستان آرمی نے پوائنٹس کے ساتھ پاکستان آرمی کے برانز میڈل جیت ایک برانز میڈل پاکستان واپڈا پاکستان ا رمی سیکنڈ کے ساتھ نے برانز میڈل میڈل حاصل کیا اور پنجاب نے نے سلور اور سلور میڈل ایونٹ میں محمد افضل کے سوئمنگ ٹیم ایونٹ دوسرے اور نے جیت لی ایچ ای سی شاہ جہان گولڈ اور واپڈا نے واپڈا کے نیوی نے آرمی کی نے گولڈ نے ایک رمی کی
پڑھیں:
3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
اسلام ٹائمز: یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم طاری ہوگیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔ سید حسن عارفی نے 3 جون 1989ء کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت امام خمینیؒ کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیزؒ کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔
3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔
حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔ حضرت امام خمینی نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔
شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔ تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقا جان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیئے۔"
میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام و المسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔ دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹرو کارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان کے ہوش و حواس قائم تھے۔
اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔ اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔
اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔ اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔
ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔
بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔
شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔
شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔ شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔
’’بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران ۔۔۔ کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران‘‘
اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:
’’ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد ۔۔۔ چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد‘‘
بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:
“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق ۔۔۔ ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”
سید حسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آیئے 4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین اور سوگوار صبح پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔
6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔
یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔