پنجاب حکومت کا چین کے ساتھ زرعی تعاون بڑھانے پر اتفاق، کسانوں کو قرضے جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں زرعی ترقی کو مزید فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور کسانوں کو 250 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے ہیں، یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں گندم کی بوائی، کسان کارڈ اسکیم اور زرعی مشینری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں یوریا کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور کھاد کی مسلسل فراہمی، قیمتوں کا استحکام اور بلیک مارکیٹ کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا گیا، صوبے میں کھاد کی قیمت میں نہ تو اضافہ ہوا اور نہ ہی کوئی کمی دیکھی گئی۔
پنجاب کے کسانوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے 250 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے، جن میں سے ساؤتھ ریجن کے کسانوں کو 105 ارب روپے فراہم کیے گئے، کسان کارڈ کے ذریعے 110 ارب روپے کی کھادیں خریدی گئیں اور 25 ارب روپے کی لاگت سے 30 ہزار گرین ٹریکٹرز فراہم کیے گئے جبکہ 10 ارب روپے کی لاگت سے 10 ہزار سپر سیڈرز کسانوں کو فراہم کیے گئے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گرین ٹریکٹر فیز 2 کے تحت 5,030 ٹریکٹر تیار ہو گئے ہیں، جن میں سے 3,389 ٹریکٹر کسانوں کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 38 اقسام کے زرعی آلات پر 68 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔
علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ 3 مفاہمتی یادداشتیں (MOUs) بھی دستخط کی ہیں، جس سے صوبے میں زرعی شعبے کی جدید کاری اور پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ صوبے میں زرعی ترقی اور کسانوں کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کی زرعی معیشت مستحکم اور خود کفیل بن سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فراہم کیے گئے کسانوں کو ارب روپے
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔