شوگر ملز کی کرشنگ شروع نہ ہوسکی، سندھ میں زرعی بحران کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
سندھ میں ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بیشتر شوگر ملز میں گنے کی کرشنگ کا آغاز نہ ہو سکا، جس کے باعث آبادگار شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
ذرائع کے مطابق گنے کی سرکاری امدادی قیمت کا تاحال تعین نہ ہونے پر کاشتکار سراپا احتجاج ہیں اور کھڑی فصل کے ضائع ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
آبادگاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جب چینی کی قیمت 120 روپے فی کلو تھی تو شوگر ملز کی جانب سے گنے کا ریٹ 600 روپے فی من دیا جا رہا تھا، جبکہ رواں سال چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے مگر اس کے باوجود شوگر ملز گنے کی قیمت محض 400 روپے فی من ادا کرنے کی پیشکش کر رہی ہیں۔ کاشتکاروں کے مطابق موجودہ نرخ پر نہ تو پیداواری لاگت پوری ہوتی ہے اور نہ ہی کسان کو محنت کا مناسب معاوضہ مل رہا ہے۔
دوسری جانب کین کمشنر سندھ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبے میں 15 سے زائد شوگر ملز میں کرشنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے اور صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گنے کی امدادی قیمت کا حتمی تعین حکومت کرے گی، جس کے بعد شوگر ملز اور آبادگاروں کے درمیان تنازع حل ہونے کی امید ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل شوگر ملز روپے فی گنے کی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک