کراچی، پولیس اور مسلح ڈکیت گینگ کے درمیان مقابلہ، تین ملزمان زخمی حالت میں گرفتار، دو فرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے منگھوپیر میں نورانی ہوٹل کے قریب پولیس اور ایک مسلح ڈکیت گینگ کے درمیان مبینہ پولیس مقابلہ ہوا۔
جس کے نتیجے میں دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے جبکہ تین دیگر ملزمان کو پولیس نے حراست میں لے لیا، دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ایس ایس پی ویسٹ، طارق الٰہی مستوئی نے بتایا کہ ملزمان تاجر فہد کو واردات کا نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے جب پولیس نے انہیں گھیر کر مقابلہ کیا۔
دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دو ملزمان زخمی ہو گئے، جن کی شناخت محمد عارف اور شاہ رخ کے نام سے ہوئی، جبکہ ان کے ساتھی کی شناخت ہارون رشید کے طور پر کی گئی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو پستول، تاجر سے چھینا گیا موبائل فون، موٹر سائیکل، نقدی اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔
زخمی ملزمان کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر گرفتار ملزمان کو پولیس تھانے لے جایا گیا۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی نے کہا کہ ملزمان کے خلاف مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور فرار ہونے والے دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک