ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز: پاکستان اور بھارت کی ایمرجنگ ٹیمیں 16 نومبر کو آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اور بھارت کی ایمرجنگ کرکٹ ٹیمیں ایک بار پھر مدِ مقابل آنے جا رہی ہیں، جس کا شائقین کو بے چینی سے انتظار ہے۔
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے تحت ہونے والا ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2025 آئندہ ماہ 14 سے 23 نومبر تک دوحا میں کھیلا جائے گا۔ یہ ٹورنامنٹ پہلے ’’ایمرجنگ ایشیا کپ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، مگر اے سی سی نے اس کا نیا نام ’’رائزنگ اسٹارز‘‘ رکھا ہے تاکہ اسے نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک باوقار پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
مقامی میڈیا پر دستیاب تفصیلات کے مطابق ایونٹ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلا جائے گا، جس میں مجموعی طور پر 15 میچز ہوں گے۔ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیا کپ میں شریک وہی آٹھ ٹیمیں دوبارہ حصہ لیں گی، جن میں پاکستان، بھارت، افغانستان، سری لنکا، بنگلادیش، عمان، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔
اس دلچسپ ٹورنامنٹ میں ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان اے اور بھارت اے کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے ساتھ یو اے ای اور عمان بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب گروپ اے میں بنگلادیش اے، افغانستان اے، سری لنکا اے اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شامل ہیں۔
پاکستان اور بھارت کا سب سے زیادہ انتظار کیا جانے والا مقابلہ 16 نومبر کو گروپ مرحلے میں دوحا میں ہوگا۔ چونکہ ایونٹ میں ’’سپر فور‘‘ مرحلہ شامل نہیں کیا گیا، اس لیے دونوں ٹیموں کے درمیان زیادہ سے زیادہ دو مقابلے ہی ممکن ہیں ۔ ایک گروپ مرحلے میں اور دوسرا اگر دونوں سیمی فائنل یا فائنل میں آمنے سامنے آجائیں۔
ہر گروپ کی 2 بہترین ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی، جب کہ فائنل 23 نومبر کو کھیلا جائے گا۔
کرکٹ شائقین کو امید ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والے یہ مقابلے مستقبل کے اسٹارز کی شناخت میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایڈیشن میں افغانستان اے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سری لنکا اے کو فائنل میں شکست دی تھی اور ایمرجنگ ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔