ڈکی بھائی کے جوا کیس سے نوجوانوں کو سبق ملا اور ماؤں نے سکھ کا سانس لیا؛ نادیہ خان
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
معروف اینکر اور اداکارہ نادیہ خان نے ایک بار پھر اپنے بے باک تبصروں سے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔
جانے مانے یوٹیوبر ڈکی بھائی کو مبینہ طور پر جوا ایپس کی تشہیر اور فروغ کے کیس میں جیل اور بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔
نادیہ خان نے اپنے شو میں اس کیس پر کہا کہ ڈکی بھائی نے خود ہی بدنامی کمائی ہے۔ جب پیسہ حرام کا ہو تو سکون کہاں سے آئے گا؟
انھوں نے مزید کہا کہ یہ سب آج کل کے نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے۔ بغیر محنت کے آسانی کے ساتھ کمایا جانے والا پیسہ ہمیشہ آسانی سے چلا جاتا ہے۔
نادیہ خان نے مزید کہا کہ ہم ماؤں کو خوشی ہے کہ اب ہمارے بچے سیکھیں گے کہ شہرت اور پیسہ سب کچھ نہیں، تعلیم اور محنت ہی اصلی کامیابی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جن یوٹیوبرز نے اپنی بیویوں کے ساتھ طرح طرح کے وی لاگز بنا بنا کر شہرت کمائی آج ان کے انجام سے سب نے سبق لے لیا ہوگا۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی نے مبینہ طور پر اس کیس کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے بطور جرمانہ ادا کیے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تنقید کا طوفان برپا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نادیہ خان ڈکی بھائی کہا کہ
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔