نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت آج کے دور کا بڑا چیلنج ہے، ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل کا سیرت النبی ؐ کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ سیرت طیبہ کی پیروی ہی نجات کا راستہ ہے، سیرت مصطفیٰ ؐ نوجوانوں کی شخصیت سازی کا بہترین ذریعہ ہے، کامیابی کی تلاش ہر انسان کی فطرت ہے، مگر اس کی حقیقی کنجی صرف سیرتِ مصطفیٰﷺ میں موجود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ’’طلبہ کی کردار سازی میں سیرت مصطفیٰ کی اہمیت اور اساتذہ و والدین کی بنیادی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں نوجوان نسل کی تربیت اور اخلاقی مضبوطی سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کا بہترین حل حضور نبی اکرمﷺ کی حیات طیبہ کی پیروی میں ہے، طلبہ کی علمی کامیابی کیساتھ ساتھ ان کے اخلاق، کردار اور معاشرتی رویے بھی مضبوط ہونا ضروری ہیں، سیرت النبیﷺ ہر دور میں انسانیت کیلئے عملی رہنمائی اور کامل اسوہ ہے، جو نوجوانوں کی شخصیت کو متوازن اور بااخلاق بناتی ہے۔
تحریک منہاج القرآن ننکانہ صاحب کے زیراہتمام منعقدہ ’’سیرت النبیﷺ ‘‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی کی تلاش ہر انسان کی فطرت ہے، مگر اس کی حقیقی کنجی صرف سیرتِ مصطفیٰﷺ میں موجود ہے، آج ہمارے نوجوانوں سے لیکر پچاس سال کے افراد تک ہر شخص سمت، رہنمائی اور فکری وضاحت کی تلاش میں بھٹک رہا ہے، اصل مسئلہ یہ نہیں کہ راستہ معلوم نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اس راستے پر عملی قدم رکھنے سے گریزاں ہیں، حالانکہ سیرتِ طیبہ ہماری رہنمائی کیلئے مکمل اور روشن راستہ پیش کرتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو خصوصی طور پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلا تاخیر سیرتِ نبویﷺ سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اسے اپنی عملی زندگی کا مرکز بنا لیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے واضح کیا کہ قیادت کا تعلق کسی عہدے، منصب یا حکومت سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ عاجزی، خدمت، نرم خوئی، تحمل اور محبت کے امتزاج سے جنم لیتی ہے، سچا قائد وہ ہوتا ہے جو اپنی کامیابی اس بات سے نہیں ناپتا کہ وہ کہاں پہنچا، بلکہ اس سے کہ اس نے اپنے ساتھ کتنے لوگوں کو منزل تک پہنچایا، سیرتِ مصطفیٰﷺ یہی درس دیتی ہے کہ قیادت مسلسل تربیت، خود احتسابی اور اصلاحِ احوال کا نام ہے۔ ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ قیادت محض اقتدار اور حکمرانی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم امانت ہے جس کا حساب دنیا اور آخرت دونوں میں ہوگا، سچا لیڈر ذمہ داریوں کو اپنے پاس جمع نہیں رکھتا بلکہ وہ انہیں منظم انداز سے آگے منتقل کرتا ہے، تاکہ ایک مربوط نظام، مضبوط ٹیم اور مؤثر نظامِ کار نسل در نسل آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی تعریف سے بچنا، بے بنیاد تنقید سے غیر متاثر رہنا اور اصلاح کیلئے ہر رائے کو مثبت انداز میں قبول کرنا ہی ایک بڑے لیڈر کی نشانی ہے۔
انہوں نے علم اور قلم کی قوت کو قیادت کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ فکری اور نظریاتی وراثت قلم کے ذریعے محفوظ رہتی ہے، انہی اصولوں کی روشنی میں طاہرالقادری کی علمی، فکری اور تربیتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جو لاکھوں نوجوانوں کی کردار سازی اور فکری رہنمائی میں تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں، آخر میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے صدر تحریک منہاج القرآن ننکانہ و پرنسپل پاک گیریژن کالج، منہاج القرآن ننکانہ کے جملہ ذمہ داران اور طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملک و قوم کا روشن مستقبل ہیں، آپ میں سے آج کا محنتی طالب علم کل کا بہترین قائد بنے گا۔ انہوں نے والدین اور اساتذہ کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے منہاج القرا ن ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے انہوں نے اور اس
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔