امریکی امیگریشن و وِکس حکام اور وکلاء کے مطابق، نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر حملے کے بعد امریکا میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ واضح رہے کہ نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر حملے کا شبہ ایک افغان نژاد شخص پر ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا ادارے اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ میں ایک حالیہ واقعے کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں رضاکار جیزل گارسیا( جو تارکین وطن کو آباد کرنے میں معاونت کرتی ہیں)کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک افغان خاندان کے سربراہ کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے دفتر میں چیک ان کے لیے لے جایا گیا۔ جیسے ہی وہ دفتر میں داخل ہوئے، انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ حالانکہ یہ افغان خاندان قانونی تقاضوں کو پورا کر رہا تھا اور ہر ملاقات پر رپورٹ کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھ لیں امریکا میں ایک اور افغان شہری گرفتار، داعش کی حمایت کا الزام

 یہ خاندان طالبان کے خطرات کے باعث افغانستان سے فرار ہوا تھا، کیونکہ والدہ کے والد نے امریکی فوج کی مدد کی تھی۔ گارسیا نے نام ظاہر نہیں کیا تاکہ دیگر رشتہ داروں کی گرفتاری کے خطرے سے بچا جا سکے۔

 گرفتاریوں کا دائرہ اور پس منظر

26 نومبر کے حملے کے بعد، تقریباً 2 درجن افغان شہریوں کو امریکا میں گرفتار کیا گیا، زیادہ تر شمالی کیلیفورنیا میں۔ سکرامنٹو، جو ملک کی بڑی افغان کمیونٹی کا گھر ہے، میں رضاکاروں نے کم از کم 9 گرفتاریوں کا مشاہدہ کیا، جن میں افغان مردوں کو فوری رپورٹ کرنے کے لیے دفتر بلایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا میں ایک اور افغان نژاد شخص گرفتار، سوشل میڈیا پر بم بنانے کی دھمکی دینے کا الزام

گرفتار شدگان میں سے کئی نے پچھلے 2 سال میں امریکی سرحد پر پناہ گزینی کی درخواست دی تھی، جبکہ دیگر وہ افغان شہری ہیں جو سابقہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے تحت Operation Allies Welcome کے ذریعے امریکا آئے تھے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اعلان کیا کہ سابقہ ٹرمپ انتظامیہ تمام افغان شہریوں کی دوبارہ جانچ کر رہی ہے جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران امریکا آئے تھے۔

 قانونی پہلو اور وکلاء کی تشویش

کچھ گرفتاریوں میں شہریوں پر کوئی سابقہ جرائم کا ریکارڈ نہیں ہے۔ شمالی کیلیفورنیا کی وکیل وہیدہ نورزاد نے بتایا کہ ان کے 2 افغان کلائنٹس، جو حال ہی میں جنوبی سرحد کے ذریعے آئے تھے، کو امریگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے گرفتار کیا۔

رضاکار گارسیا نے بتایا کہ سکرامنٹو کے وفاقی دفتر میں افغان شہریوں کو صبح 6 بجے سے بلایا گیا اور ایک ایک کر کے گرفتار کیا گیا۔ اکثر افراد کے پاس پہلے ہی اینکل مانیٹر موجود تھے۔

 اقدامات اور اثرات

حالیہ گرفتاریوں کے بعد امریکی حکومت نے کئی امیگریشن قوانین سخت کر دیے، بشمول پناہ گزینی کی درخواستوں کو عارضی طور پر روکنا، مخصوص ممالک کے امیگرنٹس کے لیے سخت جانچ اور افغان شہریوں کے امیگریشن کیسز اور ویزا پر پابندی۔

مزید پڑھیں: امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل

افغان کمیونٹی کے کارکنان اور وکلاء نے اسے ایک پوری آبادی کو اجتماعی سزا کے مترادف قرار دیا ہے، جس میں وہ افغان شامل ہیں جنہوں نے 2 دہائیوں تک امریکی فوج کے ساتھ کام کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا میں افغان پناہ گزین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا میں افغان پناہ گزین افغان شہریوں امریکا میں میں افغان شہریوں کی کیا گیا کے بعد کے لیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار