data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251209-06-12

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کی برآمدات تیزی بڑھنے لگیں اور تجارتی خسارہ کم ہونا شروع ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق چینی برآمدات میں نومبر میں 5.9 فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ امریکی برآمدات میں 29 فی صد کمی ہوئی ہے۔چین کی مجموعی برآمدات نومبر میں توقعات سے زیادہ 330.

3 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، اکتوبر میں 1.1 فی صد کمی کے بعد چینی برآمدات میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چین کی سالانہ تجارت خسارہ نہیں بلکہ 1.08 ٹریلین ڈالر سرپلس تک پہنچ گئی ہے۔ چین کی برآمدات جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکا، افریقا اور یورپی یونین میں بڑھی ہیں،جو نومبر میں 1.9 فی صد بڑھ کر 218.6 ارب ڈالر رہیں۔ ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں چین رواں سال تقریباً 5 فی صد ترقی کا ہدف پورا کر لے گا۔ ماہر معیشت مورگن اسٹینلے کا کہنا ہے کہ 2030 ء تک چین کا بین الاقوامی برآمدات میں حصہ 16.5 فی صد تک پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکا کی برآمدات آٹھویں ماہ بھی مسلسل 2 ہندسوں کی کمی کے ساتھ گر رہی ہے۔ پیر کو جاری ہونے والے کسٹمز کے اعداد و شمار نے یہ بھی ظاہر کیا کہ امریکا کو بھیجی جانے والی ترسیل میں سال بہ سال تقریباً 29 فی صد کمی واقع ہوئی۔ لیکن جیسے جیسے امریکا کے ساتھ تجارت کمزور پڑ رہی ہے، چین جنوب مشرقی ایشیا، افریقا، یورپ اور لاطینی امریکا میں اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنا رہا ہے۔

راصب خان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: برا مدات میں کی برا مدات چین کی

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان