واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے متنازعہ انداز میں سیاست کو کھیلوں سے جوڑ دیا، اور اب 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے میزبان شہروں پر نظر رکھی ہے۔

امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کی چیف آف پروٹوکول مونیکا کراؤلی نے بم گرایا کہ صدر بلو شہروں یعنی ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر اثر شہروں میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح سے انتہائی پریشان ہیں اور فیفا کے ساتھ میچز کو منتقل کرنے کی بات چیت جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ان بلو شہروں کی صورتحال پر بہت فکر مند ہیں، جہاں جرائم کی شرح آسمان چھو رہی ہے، اور وہ فیفا سے براہ راست رابطے میں ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن ٹرمپ کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی سیاحوں اور امریکی مداحوں کی حفاظت کو کوئی خطرہ نہ ہو جب وہ امریکہ میں یہ عالمی سطح کے کھیل دیکھنے آئیں گے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے ماضی میں بھی ڈیموکریٹک شہروں کو جرائم کا گڑھ قرار دے کر فوج کی تعیناتی کا جواز پیش کیا ہے، حالانکہ سرکاری اعداد و شمار اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کی یہ الزامات اکثر ریاستوں اور مقامی حکام کی قانونی چیلنجز کا شکار ہوئی ہیں۔

واضح بات یہ ہے کہ 2026 ورلڈ کپ کے 11 امریکی میزبان شہروں میں سے صرف ڈالاس اور میامی ریپبلکن پارٹی کے زیر اثر ہیں، جبکہ باقی تمام ایٹلانٹا، بوسٹن، ہوسٹن، کینساس سٹی، لاس اینجلس، نیو جرسی، فلاحیلفیا، سیئٹل اور سان فرانسسکو بے ایریا ڈیموکریٹک لیڈرشپ والے ہیں۔

ٹرمپ نے خاص طور پر بوسٹن، لاس اینجلس اور سیئٹل جیسے شہروں کو نشانہ بنایا ہے جہاں انہوں نے کوئی بھی خطرہ ہونے پر میچز منتقل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

فیفا کے صدر جانی انفانٹینو نے ٹرمپ کی ان دھمکیوں پر براہ راست ردعمل نہیں دیا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ میزبان شہروں کے ساتھ طے شدہ معاہدے قانونی طور پر پختہ ہیں اور ان میں تبدیلی لانا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ کینیڈا اور میکسیکو میں بھی کھیلا جائے گا جو پہلی بار تین ملکی ایونٹ ہوگا، میگا ایونٹس میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جو کو 4،4 کے 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، گزشتہ رات ایونٹ کے ڈراز کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔

The stage is set.

Who triumphs? ????@aramco | #FIFAWorldCup pic.twitter.com/21qBVC6KlE

— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) December 5, 2025

کراؤلی کے مطابق اب تک 2 ملین سے زائد ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں، اور ٹرمپ کا یہ اقدام عالمی کھیلوں کی تقریب کو سیاسی دباؤ کا شکار بنا سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اسے انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے جبکہ ٹرمپ کے حامی اسے قومی سلامتی کی ضمانت بتا رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ورلڈ کپ

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی