Jasarat News:
2026-06-03@05:58:09 GMT

یورپ 2027 تک نیٹو کی دفاعی ذمہ داریاں سنبھال لے: امریکا

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی محکمہ دفاع کے حکام نے واشنگٹن میں رواں ہفتے ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں یورپی سفارت کاروں کو بتایا کہ امریکا کی خواہش ہے کہ یورپ 2027 تک نیٹو کی زیادہ تر روایتی دفاعی ذمہ داریاں سنبھال لے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی کے مطابق اس بات کا انکشاف پانچ مختلف ذرائع کی جانب سے کیا گیا ہے جو اس گفتگو سے واقف تھے

، جن میں ایک امریکی اہلکار بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپ نے اپنی دفاعی صلاحیتیں بہتر تو کی ہیں، مگر امریکا ان کوششوں سے مطمئن نہیں ہے۔

میٹنگ میں یورپی وفود کو یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ اگر یورپ 2027 تک مطلوبہ اہداف پورے نہ کر سکا تو امریکا نیٹو کی بعض دفاعی پالیسیوں میں حصہ لینا بند کردے گا۔

یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیڈ لائن نہ صرف بہت سخت ہے بلکہ حقیقت سے دور بھی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ یورپ چاہ کر بھی چند برسوں میں وہ صلاحیتیں حاصل نہیں کر سکتا جو امریکا کے پاس ہیں، کیونکہ کئی ہتھیاروں کی پیداوار میں تاخیر ہے، جبکہ امریکی ہتھیاروں میں سے بعض کی ترسیل میں بھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکا کے پاس ایسی انٹیلی جنس، جاسوسی اور نگرانی کی ٹیکنالوجی ہے جو خرید کر فوری حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یوکرین جنگ میں انہی صلاحیتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

امریکی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ یورپ کی کارکردگی کو کیسے ناپیں گے اور کس بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ یورپ نے ذمہ داری پوری کی یا نہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ 2027 کی ڈیڈ لائن ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی ہے یا صرف کچھ پینٹا گون حکام کا نقطہ نظر ہے۔

یورپی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے 2030 تک اپنی دفاعی کمزوریاں دور کرنے کا ہدف رکھا ہوا ہے، لیکن وہ بھی ایک مشکل اور طویل کام ہے، کیونکہ یورپ کو فضائی دفاع، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر، گولہ بارود اور دیگر شعبوں میں ابھی بہت بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ یورپ

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار