بنگلہ دیش الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تیاریاں مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے سینیئر سیکریٹری اختر احمد نے صحافیوں کے لیے منعقدہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن اب بھی اس بات پر غور کر رہا ہے کہ انتخابی شیڈول کب جاری کیا جائے۔

مزید پڑھیں: اگر پابندی نہیں ہٹی تو بنگلہ دیش میں الیکشن نہیں ہونے دیں گے، حسینہ واجد کے بیٹے کی دھمکی

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہم انتخابی تیاریوں پر اجلاس کررہے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن ابھی تک شیڈول کے اعلان کے لیے درست دن کا فیصلہ نہیں کر سکا۔

واضح رہے کہ عبوری حکومت اس سے قبل اعلان کر چکی ہے کہ 13ویں قومی اسمبلی کے انتخابات اور قومی ریفرنڈم فروری میں ایک ہی روز ہوں گے۔

اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے ابتدائی طور پر منصوبہ بنایا تھا کہ شیڈول دسمبر کے پہلے نصف میں جاری کیا جائے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے عندیہ دیا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ اعلان دسمبر کے دوسرے ہفتے میں ہو سکتا ہے۔

ہفتہ کو الیکشن کمیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینیئر سیکریٹری اختر احمد بھی شریک ہوئے۔

بعد ازاں تربیتی ورکشاپ میں انہوں نے صحافیوں کو انتخابی قوانین، ریپریزنٹیشن آف پیپل آرڈر (آر پی او)، اور سیاسی جماعتوں و امیدواروں کے ضابط اخلاق سے متعلق بریفنگ دی۔

یہ پروگرام یو این ڈی پی اور رپورٹرز فورم فار الیکشن اینڈ ڈیموکریسی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔

اگرچہ شیڈول کے اعلان کی تاریخ بدستور غیر واضح ہے، تاہم اختر احمد نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: دسمبر میں الیکشن کا مطالبہ کرنے والی ’بی این پی‘ کے زیراہتمام ریلی کا انعقاد

انہوں نے میڈیا سے گزارش کی کہ انتخابات سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری سب سے درخواست ہے کہ درست معلومات فراہم کریں۔ انتخابات سے متعلق گمراہ کن خبریں نشر کرنے سے پرہیز کریں، ہماری پولنگ کے لیے مضبوط تیاریاں جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews الیکشن شیڈول الیکشن کمیشن بنگلہ دیش عام انتخابات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن شیڈول الیکشن کمیشن بنگلہ دیش عام انتخابات وی نیوز الیکشن کمیشن بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز  جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔

صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

استعفے کی وجہ کیا ہے؟

صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

آئینی طریقہ کار

صدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔

آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔

شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگی

شیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔

گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔

موجودہ حکومت پر دباؤ

شیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔

اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔

2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے

76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن