الیکشن کمیشن کی اراکین پارلیمنٹ کو 31دسمبر تک مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
الیکشن کمیشن کی اراکین پارلیمنٹ کو 31دسمبر تک مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 5 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اراکین پارلیمنٹ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات 31 دسمبر تک جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کو فارم بی میں شریک حیات و بچوں کے اثاثے لازمی ظاہر کرنا ہوں گے۔یکم جنوری کو گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین نام جاری ہوں گے، 15 جنوری سے گوشوارے نہ دینے والے اراکین رکنیت معطل ہوگی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اراکین کے اثاثوں میں غلط معلومات پر 120 دن میں کارروائی ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقوم کو اپنی بہادر افواج اور آپکی قیادت پر ناز ہے، خواجہ آصف کی فیلڈ مارشل کو مبارکباد قوم کو اپنی بہادر افواج اور آپکی قیادت پر ناز ہے، خواجہ آصف کی فیلڈ مارشل کو مبارکباد بانی نے کہا خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگائیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے، علیمہ خان خیبرپختونخوا حکومت کا 9مئی کے مزید 57مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،اراکین کا سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا پر عدم اعتماد کا اظہار ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے یکجہتی کیلئے اسلام آباد بار نے کل ہڑتال کا اعلان کردیا سندھ کو جی ایس ٹی کی ذمہ داری دیں تو ہدف سے زیادہ ٹیکس جمع کرسکتے ہیں، بلاول بھٹو کی پیشکشCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔