پشاور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو آزاد قرار دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی جانب سے پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کو آزاد قرار دینے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کو خارج کردیا۔
درخواست کی سماعت جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نے کی۔
درخواست گزار نے الیکشن رولز 94 کو چیلنج کیا تھا اور وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ممبران کو آزاد قرار دیا ہے، لہٰذا اب الیکشن کمیشن یہ واضح کرے کہ آیا پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے پہلے پشاور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ اور بعد میں سپریم کورٹ کے فیصلے آئے۔
وکیل مسلم لیگ ن نے مؤقف اختیار کیا کہ نظرثانی درخواستوں پر آئینی بینچ نے فیصلہ دے دیا ہے اور اس معاملے کو ختم ہو چکا ہے۔
عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب سنایا گیا ہے اور اس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ کی درخواست خارج کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ عام انتخابات 2024 سے قبل الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لیتے ہوئے امیدواروں کو آزاد قرار دے دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ارکان اسمبلی پشاور ہائیکورٹ پی ٹی آئی درخواست خارجہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارکان اسمبلی پشاور ہائیکورٹ پی ٹی ا ئی درخواست خارجہ وی نیوز پشاور ہائیکورٹ الیکشن کمیشن
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔