لاہور ہائیکورٹ: انجینئر مرزا محمد علی نے ایف آئی اے تحقیقات کیخلاف درخواست دائر کردی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ: انجینئر مرزا محمد علی نے ایف آئی اے تحقیقات کیخلاف درخواست دائر کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 3 December, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) مذہبی اسکالر انجینئر مرزا محمد علی نے ایف آئی اے کی تحقیقات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔
انجینئر مرزا محمد علی نے ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں کی وساطت سے درخواست دائر کی ہے جس میں ایف آئی اے اور پنجاب قرآن بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔
مرزا محمد علی نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ایف آئی اے نے انہیں نوٹس جاری کیے بغیر تحقیقات شروع کر دی ہیں، ایف آئی اے نے سوشل میڈیا سے ویڈیو پر فتویٰ کے لیے پنجاب قرآن بورڈ بھجوا دی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پنجاب قرآن بورڈ نے پرانی ویڈیو پر درخواست گزار کو گنہگار قرار دیا ہے، پنجاب قرآن بورڈ کو کسی طرح کا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے، پنجاب قرآن بورڈ صرف قرآن پاک کی اشاعت کو دیکھتی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت درخواست گزار کے خلاف جاری فتویٰ کو کالعدم قرار دے کر تحقیقات ختم کرنے کا حکم دے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور روس کے وزرائے خارجہ کا دوسری جنگ عظیم کی فتح کے نتائج کے تحفظ پر زور پلاٹس کی ایکسڑرا فائلیں فروخت کرنیوالی ہاوسنگ سوسائیڑز کے خلاف سی ڈی اے کا کریک ڈاؤن شروع ، بڑی سوسائٹی کا دفتر سیل، تفصیلات... کراچی ایکسپو سینٹر میں 23ویں فارما ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز کا شاندار آغاز ای سی او رکن ممالک کو اکنامک کوریڈور کے ذریعے جوڑنے پر کام کرنا ہو گا، عاطف اکرام شیخ سنگجانی جلسہ کیس: عمر ایوب اور زرتاج گل اشتہاری قرار، جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دنیا میں نئے تنازعات امن کیلئے خطرہ، مذاکرات اور سفارتکاری کے حامی ہیں: اسحاق ڈار میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز کے خلاف کارروائی، 38 پاکستانیوں سمیت سیکڑوں غیر ملکیوں کی بازیابی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انجینئر مرزا محمد علی نے درخواست دائر ایف ا ئی اے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔