سینیٹر عرفان صدیقی کی خالی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ویب ڈیسک : سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی سینیٹ کی جنرل نشست کے لیے ضمنی انتخاب کا اعلان کردیا گیا۔
ترجمان الیکشن کمشنر پنجاب کے مطابق امیدوار 4 دسمبر سے 5 دسمبر 2025 تک ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے، نامزد امیدواروں کی فہرست 6 دسمبر 2025 کو شائع کی جائے گی۔
کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 8 دسمبر 2025 تک مکمل کی جائے گی، کاغذات نامزدگی منظو یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 10 دسمبر 2025 تک دائر کی جا سکیں گی، اپیلوں کے فیصلوں کی آخری تاریخ 12 دسمبر 2025 مقرر کی گئی ہے، امیدواروں کی نظرِ ثانی شدہ فہرست 13 دسمبر 2025 کو جاری کی جائے گی۔
چین نے بھارت کیساتھ سرحد پر مشین گنوں سے لیس روبوٹس تعینات کر دیئے
امیدوار 15 دسمبر 2025 تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے سکیں گے، پولنگ 24 دسمبر 2025 کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک صوبائی اسمبلی پنجاب میں منعقد ہو گی، کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کے دفتر 10 کورٹ سٹریٹ لاہور میں 4 سے 5 دسمبر کے درمیان وصول کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔