پنجاب حکومت کی طرف سے قائم ملک کے پہلے سرکاری آٹزم اسکول میں داخلے شروع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستان کے پہلے سرکاری آٹزم اسکول ‘مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر آف آٹزم’ میں داخلوں کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اعلان کے مطابق اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے والدین کی سہولت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا نظام فعال کر دیا ہے، جس کے تحت آٹسٹک بچوں کے والدین autism.punjab.
یہ بھی پڑھیے: ’آٹزم کے شکار بچے کو پلے ایریا میں جانے سے روک دیا گیا‘، ماں کا احتجاج، صارفین برہم
اسکول میں 3 سے 5 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن سیکشن، 6 سے 12 سال کے لیے جونیئر سیکشن جبکہ 13 سے 16 سال کے آٹسٹک بچوں کے لیے سینئر سیکشن قائم کیا گیا ہے۔
داخلوں کے لیے رجسٹریشن کی آخری تاریخ 10 دسمبر مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ آٹزم بچوں میں اعصابی بیماری ہے جو ان کی دوسروں سے ملنے جلنے، بات چیت کرنے اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹزم اسکول مریم نواز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔