Jasarat News:
2026-06-03@02:43:07 GMT

نواز شریف صاحب پورا سچ بولیے!

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مسلم لیگ نون کے صدر اور پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے سیاسی رہنما نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان صرف اکیلا مجرم نہیں تھا اس کو لانے والے اس سے بڑے مجرم تھے ان سے بھی پورا پورا حساب لینا چاہیے، 2017 میں ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا، ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا، ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ہمارا ایک مقام ہوتا، شہباز شریف اور مریم نواز تو مجھ سے بھی آگے نکل گئے ہیں، شہباز شریف اور مریم نواز بہت اچھے کام کر رہے ہیں، میں خوش ہوں یہ مجھ سے اور زیادہ آگے نکل جائیں گے، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف بہت اچھا پیار کرنے والا بھائی ہے مجھ سے جو مدد ہوتی ہے وہ کرتا ہوں، عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر ہمیں ووٹ دیا ہے۔ نواز شریف طویل عرصے خاموشی کے بعد بولے ہیں انہوں نے سچ کہا ہے لیکن آدھا سچ کہا ہے انہیں پورا سچ بولنا چاہیے کہ عمران خان کو لانے والے، نواز شریف کو پہلی بار وزیر خزانہ پنجاب بنانے والے، نواز شریف کو پہلی مرتبہ وزیراعظم بنانے والے، شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے والے، مریم نواز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے والے ہم سب سیاست دانوں سے زیادہ بڑے مجرم ہیں اور ان سے پورا پورا حساب لینا چاہیے بلکہ لینا چاہیے کیا معنی، آپ کا بہت اچھا پیار کرنے والا بھائی شہباز شریف ملک کا وزیراعظم ہے، وزارت دفاع اور وزارت عدل و قانون اسی کے ماتحت ہے ہر لمحے آپ کی تعریفیں کرنے والی آپ کی بیٹی مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب ہے، راولپنڈی ڈویژن پنجاب کا ہی حصہ ہے، آپ ذرائع ابلاغ پر کہنے کے بجائے ان دونوں کو حکم دیں کہ غیر قانونی اور غیر غیر آئینی اقدامات کرنے والے تمام جرنیلوں اور ججوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا جائے اور ان سے پورا پورا حساب لیا جائے، اب تو حکومت کو دو تہائی اکثریت بھی حاصل ہو چکی ہے اگر آج حساب نہ لیا گیا تو کب لیا جائے گا۔

نواز شریف کا یہ کہنا کہ 2017 میں ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ہمارا ایک مقام ہوتا، آدھا سچ بھی نہیں ہے، 2017 میں عوام کا جو حال تھا وہ انہیں خوب یاد ہے لوگوں کو خوراک تک کم کرنا پڑی تھی بجلی کے بلوں نے بے شمار چھوٹے بڑے کارخانے بند کرا دیے تھے برآمدات ختم ہو کر رہ گئی تھیں بے روزگاری بہت بڑھ گئی تھی بے شمار عزت دار لوگ بھی دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلا نے پر مجبور ہو گئے تھے۔ جب عمران خان کی حکومت ختم کی گئی اس کے بعد کافی عرصے تک عمران خان بھی یہی راگ الاپتے رہے جو آپ آج الاپ رہے ہیں بلکہ وہ تو ان سرکاری رپورٹوں کا حوالہ بھی دیتے رہے جو شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد شائع ہوئیں اور ان میں ملکی ترقی کے بڑے بڑے اعداد وشمار دیے گئے تھے سرکاری اعداد وشمار کے لحاظ سے شاید آپ کے دور میں بھی ترقی ہو رہی ہو لیکن عوام کے لیے دونوں ہی ادوار بھیانک ثابت ہوئے۔ شریف خاندان کی روایت کے مطابق نواز شریف نے اپنے بھائی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی دل کھول کر تعریف کی اور کہا کہ یہ دونوں تو مجھ سے بھی آگے نکل جائیں گے۔ پتا نہیں خود کو فریب دیا جا رہا ہے یا قوم کو! یہاں کراچی کے بیش تر علاقوں میں پانی ہے نہ بجلی گیس ہے نہ صفائی کا مناسب انتظام، کبھی اسے روشنیوں کا شہر کہتے تھے اب اندھیروں کا شہر کہنا چاہیے، گلیوں، محلوں کو تو چھوڑیے بڑی شاہراہیں تک اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہیں، تھوڑی بہت روشنی ہوتی ہے تو دکانیں کھلی ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں، دکانیں بند ہونے کے بعد کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

پنجاب کی ترقی کے دعوے ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے اشتہارات میں مسلسل نظر آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب، پختون خوا، بلوچستان سے ہر روز بسیں آتی ہیں جو ان غریبوں سے بھری ہوتی ہیں جو روزی روٹی کی تلاش میں اپنے حسین شہروں اور دیہات کو چھوڑ کر کراچی میں قسمت آزمانے کے لیے آتے ہیں اگر انہیں اپنے شہروں اور دیہات میں روزگار میسر ہو تو کیا وہ اپنے ماں باپ بھائی بہن بیوی بچوں کو چھوڑ کر کراچی آتے ؟ ہرگز نہیں آتے شدید مجبوری نہ ہو تو کوئی اپنے پیاروں کو نہیں چھوڑتا، دوسری جانب کراچی سمیت پاکستان کے ہر شہر اور گاؤں سے تعلیم یافتہ اور ان پڑھ بے شمار لوگ ملک سے باہر جا کر قسمت آزمانا چاہتے ہیں، بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو معاشی حالات نہیں سماجی عدل کے فقدان، عزت نفس کی پامالی کے باعث ملک کو ہمیشہ کے لیے ہی خیر باد کہہ دینا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں کے عوام سب سے زیادہ دوسرے ممالک کا رُخ کر رہے ہیں پاکستان ان میں سر فہرست آچکا ہے۔ آخر میں میاں نواز شریف نے جو کہا ہے کہ عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ووٹ دیا ہے یہ اس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ اس پر کیا تبصرہ کیا جائے کسی طول طویل بحث میں پڑے بغیر ہی میاں صاحب کو نتائج آنے کے بعد شائع اور نشر ہونے والی اپنی ہی تصاویر اور فوٹیجز دیکھ لینی چاہییں کہ ان کے چہرے کے تاثرات کیا کہہ رہے ہیں، ان کا چہرہ کہہ رہا تھا کہ مسلم لیگ نون ہار گئی ہے نہ صرف ہار گئی ہے بلکہ بری طرح ہار گئی ہے، جس پر انہیں بھی شرمسار ہونا چاہیے تھا اور ان کے مددگاروں کو بھی لیکن افسوس شرمسار جیتنے والوں کو کیا گیا۔ اب آئین میں ترامیم کر کے ایسا مستحکم نظام قائم کر دیا گیا ہے کہ:

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

سوائے اس نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کے ہر طبقہ فکر اور ہر فرد نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی سخت مخالفت کی اسے جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے زہر قاتل قرار دیا لیکن حکومت میں شامل جماعتوں کے سر پر جوں تک نہ رینگی بلکہ اب وہ 28 ویں ترمیم لانے کا بھی اعلان کر رہے ہیں اور پچھلی دونوں ترامیم کی طرح اس مرتبہ بھی قانون دانوں اور عوام تو درکنار خود ارکان پارلیمان تک کو کچھ نہیں بتایا جارہا کہ آئین کہ کن آرٹیکلز میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور کس لیے کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بیان پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے جوابی بیان سے پتا چلا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے بھی ان ترامیم پر نکتہ چینی کی ہے، دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی پارلیمان کی منظورکردہ آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی تشویش ناقابل فہم ہے، آئینی ترامیم عوامی نمائندوں کا اختیار ہے، جمہوری طریقہ کار کا احترام ہونا چاہیے دفتر خارجہ کے بیان پر ہمارا تبصرہ یہ ہے کہ ان ترامیم پر دنیا بھر کو تشویش اسی لیے تو ہے کہ آئین میں ترمیم کرنا عوامی نمائندوں کا اختیار ہے پارلیمنٹ میں بٹھائے گئے لوگ یہ اختیار کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

احمد حسن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنانے والے شہباز شریف کر رہے ہیں نواز شریف مریم نواز شریف کو ہیں اور ہے کہ ا اور ان کہا ہے تے ہیں کے بعد کے لیے

پڑھیں:

نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 

گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن  جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔ 

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔

جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ

یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ  کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف