الیکشن نتائج سے پہلے بڑا ہنگامہ، فوج نے صدر کو ہٹا کر اقتدار سنبھال لیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
گنی بساؤ میں فوج نے صدر اومارو سسکو ایمبالو کو ہٹا کر اقتدار سنبھال لیا ہے۔
سرکاری ٹیلی وژن پر جاری بیان میں فوجی افسران نے اعلان کیا کہ حکومت برطرف کر دی گئی ہے، انتخابی عمل معطل کر دیا گیا ہے، ملک کی سرحدیں بند اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
فوجی قیادت کے مطابق ایک اعلیٰ عسکری کمان تشکیل دی گئی ہے جو اگلے حکم تک ملک کا انتظام چلائے گی۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب سخت مقابلے کے بعد صدارتی انتخابات کے عبوری نتائج سامنے آنا تھے۔
فوجی اعلان سے کچھ دیر قبل دارالحکومت بساؤ میں الیکشن کمیشن، صدارتی محل اور وزارت داخلہ کے قریب فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، تاہم کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
انتخابات میں صدر ایمبالو کا مقابلہ اُن کے حریف فرننڈو ڈیاس سے تھا اور دونوں نے پہلے مرحلے میں اپنی جیت کا دعویٰ کر رکھا تھا۔
صدر کے ترجمان نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن پر حملہ فرننڈو ڈیاس کے حامیوں نے کیا تاکہ نتائج کا اعلان روکا جا سکے، تاہم اس الزام کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
فرننڈو ڈیاس اور ان کے اتحادی سابق وزیر اعظم ڈومِنگوس سیموئز پریئرا نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج سے قبل ہونے والی کشیدگی میں ان کا کوئی کردار نہیں۔
گنی بساؤ 1974 میں آزادی کے بعد سے اب تک متعدد فوجی بغاوتوں کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ صدر ایمبالو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دور میں تین قاتلانہ حملوں سے بھی بچ چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔