ادویات کی نگرانی کیلئے کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
مقامی فارماسیوٹیکل مارکیٹ اور کارٹیلائزیشن کی مشترکہ نگرانی سمیت ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے سے متعلق کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کے تحت کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی معلومات اور ڈیٹا شئیرنگ کریں گے۔
مسابقتی کمیشن کا کہنا تھا کہ فارماسیوٹیکل مارکیٹ کی موثر نگرانی کی جائے گی، پالیسی ریسرچ، ڈیٹا شیئرنگ اور استعداد کار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کمپٹیشن کمیشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی دواؤں کی قیمتوں اور دستیابی پر مؤثر نگرانی کا فریم ورک تشکیل دیں گے۔ فارما پراڈکٹ کی گمراہ کن اشتہارات کا جائزہ اور فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں کارٹلائزیشن کی مشترکہ نگرانی کی جائے گی۔
ممبر سی سی پی سلمان امین نے بتایا کہ مزید برآں آن لائن گمراہ کن مارکیٹنگ روکنے کیلئے تعاون ضروری ہے۔ ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دواسازی کا شعبہ براہِ راست عوامی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے اس لیے دونوں اداروں کا قریبی تعاون ضروری ہے تاکہ دواوں کی مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مقابلہ یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبیداللہ نے کہا کہ وفاقی ریگولیٹری ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے ہیں لیکن ان کے مقاصد مشترکہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاماسیوٹیکل سیکٹر میں قیمتوں کو ڈیریگولیٹ کیا جا چکا ہے تاہم فارما کمپنیوں کو مارکیٹ کے اصولوں کی پاسداریی اور سپلائی سے متعلق چیلنجز مشترکہ نگرانی کا تقاضا کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔