پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بحرین آکر ایسا محسوس ہوا جیسے اپنے گھر آئے ہوں۔ بحرین کے فرمانروا اور ولی عہد کی محبت و عزت ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے پاک بحرین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں کاروباری برادری سے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر قائم ہیں اور وقت آگیا ہے کہ ان تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات بہترین ماحول میں ہوئے جس سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف سے بحرین کے وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی نوجوان ترین آبادی ہے، جس میں 60 فیصد نوجوان 15 سے 30 سال کے درمیان ہیں، اور ان نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی اور جدید مہارتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بحرینی کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر نئی راہیں کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم نے پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ بحرین میں مقیم ایک لاکھ سے زائد پاکستانی ملک کا فخر ہیں، اور 484 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے میں ان کا کردار اہم ہے۔ پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کی بہترین سفیر ہے۔
محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بحرین کے وژن اور ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کا خواہاں ہے اور پاکستان کے پاس وسائل، افرادی قوت اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث وسیع مواقع موجود ہیں۔
مزید پڑھیں:بحرین ڈیفنس فورس کے چیف آف اسٹاف کا ایئر ہیڈکوارٹر اسلام آباد کا دورہ، دونوں ممالک کا دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
انہوں نے کہا کہ بحرین کی مالیاتی مہارت کے ساتھ مل کر دونوں ممالک بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے سرمایہ کاری کے مواقع کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ پاکستان زراعت، آئی ٹی، معدنیات، توانائی اور سیاحت میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے، اور بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور مشترکہ منصوبوں میں شامل ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ جلد حتمی مراحل میں داخل ہو جائے گا اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تیزی سے جانا ہے تو اکیلے جائیں، دور جانا ہے تو مل کر چلیں۔ یہ پاکستان اور بحرین کے مستقبل کے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا بہترین فلسفہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بحرین بحرین کے فرمانروا پاکستان پاکستان اور بحرین پاکستانی کمیونٹی دارالحکومت منامہ وزیراعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بحرین کے فرمانروا پاکستان پاکستان اور بحرین پاکستانی کمیونٹی دارالحکومت منامہ وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان اور بحرین کے محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔