وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ ن پنجاب کےصدر رانا ثناء اللّٰہ نے کہاہے کہ ہری پور کے ضمنی الیکشن میں کامیابی پر خوشی بھی ہوئی اور حیرانی بھی،وزیر اعلیٰ کے پی ہری پور میں مہم چلا رہے تھے اور دھمکیاں بھی دے رہے تھے، جھوٹے مقدمات، گالم گلوچ، نفرت جیسے معاملات کا نتیجہ بہتر نہیں نکلتا۔  انہوں نے کہا کہ 2017 میں مہنگائی 3 فیصد تھی جو 4 سال میں 40 فیصد پر گئی،بانی پی ٹی آئی پروجیکٹ کے لانچ کے بعد ملک میں تباہی آئی۔ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل ہو گا تو عوام کو ریلیف دے سکیں گے،ہم لوگوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے نہیں دے پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تباہی کرنے والوں سے جواب طلبی میں وقت ضائع کیا جائے یا بہتری کے لیے کام کیا جائے،ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا جائے،حالات بہتر، لوگوں کو ریلیف دیا جائے یا پھر اسی دائرے میں گھوما جائے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات، گالم گلوچ، نفرت جیسے معاملات کا نتیجہ بہتر نہیں نکلتا، ہماری اولین ترجیح ہے کہ ملک آگے بڑھے،ترقی کرے اور لوگوں کے لیے آسانی ہو، جن لوگوں نے ماضی میں ملک کو نقصان پہنچایا ان کے حساب کا وقت آسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنمانے کہاکہ ملک کی بہتری کے لیے کام ہونا چاہیے، ان لوگوں کا حساب بعد میں بھی ہوسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا