Express News:
2026-07-24@08:23:32 GMT

کیا نادرا نے برطانیہ میں نئی ویب سائٹ لانچ کی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

پاکستانی سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں حال ہی میں ایک دعویٰ تیزی سے پھیل رہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک نئی آن لائن ویب سائٹ متعارف کرائی ہے۔

اس ویب سائٹ کو نادرا کی بیرونِ ملک سروسز تک رسائی کا خصوصی پلیٹ فارم بتایا جا رہا ہے۔

تاہم تصدیق کے بعد یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔


سوشل میڈیا پر کیا دعویٰ کیا گیا تھا؟

متعدد آن لائن پوسٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ویب سائٹ www.

nadracardcentre.co.uk
 کے ذریعے نہ صرف شناختی کارڈز کی تجدید یا نئے NICOP کے لیے درخواست دی جاسکتی ہے بلکہ مبینہ طور پر نادرا میں روزگار کے مواقع بھی یہاں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ لنکس فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور واٹس ایپ گروپس میں بڑی تعداد میں شیئر کیے گئے، تاکہ صارفین کو یہ باور کرایا جائے کہ یہ نادرا کا آفیشل پلیٹ فارم ہے جو خاص طور پر برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے لیے لانچ کیا گیا ہے۔


فیکٹ چیک: دعویٰ غلط ثابت ہوا

نادرا کے دو سینئر حکام نے اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ یہ ویب سائٹس مکمل طور پر جعلی ہیں اور اتھارٹی نے بیرونِ ملک سروسز کے لیے کوئی نئی ویب سائٹ لانچ نہیں کی۔

نادرا کے ترجمان نے گفتگو میں واضح کیا کہ ’’نادرا کی کوئی اضافی ویب سائٹ موجود نہیں جس کے ذریعے خدمات حاصل کی جاسکیں۔ نادرا کی واحد آفیشل ویب سائٹ nadra.gov.pk ہے، جو صرف معلومات فراہم کرتی ہے۔ اصل سروسز صرف اور صرف نادرا کی موبائل ایپ Pak Identity App کے ذریعے دستیاب ہیں۔‘‘

ترجمان کے مطابق کسی دوسری ویب سائٹ، ایپ یا پلیٹ فارم کے ذریعے نادرا کی خدمات حاصل نہیں کی جاسکتیں۔


نادرا کی سرکاری وضاحت

نادرا کے آفیشل فیس بک پیج پر بھی جعلی ویب سائٹ کے حوالے سے تنبیہ جاری کی گئی ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ’’یہ ویب سائٹ نادرا کے نام پر جعلی شناختی کارڈ اور NICOP سے متعلق خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور ملازمت کی آفرز بھی دکھا رہی ہے۔ براہِ کرم نوٹ کریں کہ اس ویب سائٹ کا نادرا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

نادرا نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ ایسی ویب سائٹس پر اپنے ذاتی یا شناختی دستاویزات کی معلومات فراہم نہ کریں۔

تحقیق اور سرکاری تصدیق کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ برطانیہ میں نادرا کے نام پر گردش کرنے والی ویب سائٹ جعلی ہے۔ نادرا نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے کوئی نیا آن لائن پلیٹ فارم متعارف نہیں کرایا۔

مصدقہ طور پر نادرا کی تمام سروسز صرف دو ذرائع سے حاصل کی جا سکتی ہیں:

Pak Identity App

آفیشل ویب سائٹ: nadra.gov.pk

کوئی بھی اضافی ویب سائٹ، لنک یا ایپ جعلی تصور کیا جائے۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: برطانیہ میں پلیٹ فارم نادرا کے نادرا کی ویب سائٹ کے ذریعے کے لیے

پڑھیں:

گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟

گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔

گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔

یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گوگل گوگل پاسپورڈ

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی