Express News:
2026-06-02@22:44:29 GMT

کیا نادرا نے برطانیہ میں نئی ویب سائٹ لانچ کی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

پاکستانی سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں حال ہی میں ایک دعویٰ تیزی سے پھیل رہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک نئی آن لائن ویب سائٹ متعارف کرائی ہے۔

اس ویب سائٹ کو نادرا کی بیرونِ ملک سروسز تک رسائی کا خصوصی پلیٹ فارم بتایا جا رہا ہے۔

تاہم تصدیق کے بعد یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔


سوشل میڈیا پر کیا دعویٰ کیا گیا تھا؟

متعدد آن لائن پوسٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ویب سائٹ www.

nadracardcentre.co.uk
 کے ذریعے نہ صرف شناختی کارڈز کی تجدید یا نئے NICOP کے لیے درخواست دی جاسکتی ہے بلکہ مبینہ طور پر نادرا میں روزگار کے مواقع بھی یہاں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ لنکس فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور واٹس ایپ گروپس میں بڑی تعداد میں شیئر کیے گئے، تاکہ صارفین کو یہ باور کرایا جائے کہ یہ نادرا کا آفیشل پلیٹ فارم ہے جو خاص طور پر برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے لیے لانچ کیا گیا ہے۔


فیکٹ چیک: دعویٰ غلط ثابت ہوا

نادرا کے دو سینئر حکام نے اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ یہ ویب سائٹس مکمل طور پر جعلی ہیں اور اتھارٹی نے بیرونِ ملک سروسز کے لیے کوئی نئی ویب سائٹ لانچ نہیں کی۔

نادرا کے ترجمان نے گفتگو میں واضح کیا کہ ’’نادرا کی کوئی اضافی ویب سائٹ موجود نہیں جس کے ذریعے خدمات حاصل کی جاسکیں۔ نادرا کی واحد آفیشل ویب سائٹ nadra.gov.pk ہے، جو صرف معلومات فراہم کرتی ہے۔ اصل سروسز صرف اور صرف نادرا کی موبائل ایپ Pak Identity App کے ذریعے دستیاب ہیں۔‘‘

ترجمان کے مطابق کسی دوسری ویب سائٹ، ایپ یا پلیٹ فارم کے ذریعے نادرا کی خدمات حاصل نہیں کی جاسکتیں۔


نادرا کی سرکاری وضاحت

نادرا کے آفیشل فیس بک پیج پر بھی جعلی ویب سائٹ کے حوالے سے تنبیہ جاری کی گئی ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ’’یہ ویب سائٹ نادرا کے نام پر جعلی شناختی کارڈ اور NICOP سے متعلق خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور ملازمت کی آفرز بھی دکھا رہی ہے۔ براہِ کرم نوٹ کریں کہ اس ویب سائٹ کا نادرا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

نادرا نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ ایسی ویب سائٹس پر اپنے ذاتی یا شناختی دستاویزات کی معلومات فراہم نہ کریں۔

تحقیق اور سرکاری تصدیق کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ برطانیہ میں نادرا کے نام پر گردش کرنے والی ویب سائٹ جعلی ہے۔ نادرا نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے کوئی نیا آن لائن پلیٹ فارم متعارف نہیں کرایا۔

مصدقہ طور پر نادرا کی تمام سروسز صرف دو ذرائع سے حاصل کی جا سکتی ہیں:

Pak Identity App

آفیشل ویب سائٹ: nadra.gov.pk

کوئی بھی اضافی ویب سائٹ، لنک یا ایپ جعلی تصور کیا جائے۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: برطانیہ میں پلیٹ فارم نادرا کے نادرا کی ویب سائٹ کے ذریعے کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی